عقائد کا بیان
این ترجمه از آنِ مترجم آن است، نه سبیل. همانگونه که منبعش میدهد نشان داده میشود: زیر هر کتاب، با عنوانهای خودِ مترجم، بهصورت متنی جداگانه؛ سطر به سطر در کنار عربی نمیایستد و خطاهای نسخهای را که از آن خوانده شده نگه میدارد. سبیل آن را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است.
ترجمهٔ Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںخواندهشده از dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)برداشتهشده در 2026-10-22
آنچه منبع دربارهٔ آن میگوید: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
قوائد عقائد کابیان چار فصلوں پر مشتمل ہے:
پہلی فصل: پہلے اسلامی رکن کلمۂ شہادت کے متعلق
عقیدۂ اہلسنّت کی وضاحت
اس فصل میں عقائد ِاہلسنّت میں سے اس عقیدے یعنی کلمۂ شہادت کے متعلِّق وضاحت کی گئی ہے کہ جس کا اقراروتصدیق پہلا اسلامی رکن ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاکردہ توفیق سے میں کہتا ہوں کہ سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جوپیدا کرنے والا ، دوبارہ زندہ کرنے والا ، جو چاہے کرنے والا ، عرش کا مالک عزت والا ، سخت گرفت فرمانے والا ، اپنے پسندیدہ بندوں کو صراطِ مستقیم اور درست طرزِ عمل کی طرف ہدایت دینے والا ، شک وتردد کی اندھیریوں سے اپنے عقائد کو بچا کراقرارِ توحید پر جم جانے والوں پر انعام فرمانے والا ، اپنے فضل وکرَم سے اپنے پسندیدہ بندوں کو محمد ِمصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت اور معززومشرف صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشنے والا ہے ۔ اپنے پسندیدہ بندوں پراپنی ذات وافعال کوان عمدہ اوصاف کے ذریعے روشن فرماتاہے کہ جن کا ادراک وہی کرسکتاہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتا اور بارگاہ میں حاضر رہتاہے اور وہ انہیں اپنی ذات کی معرفت بھی عطافرماتاہے کہ وہ ایک ہے اس کاکوئی شریک نہیں ، یکتاہے اس کی کوئی نظیرنہیں ، بے نیازہے کوئی اس کے جوڑ کا نہیں ، تنہاہے کوئی اس کاہم رتبہ نہیں ، واحد و قدیم ہے کہ اس سے پہلے کسی چیز کا وجود نہ تھا ، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہ اس کی ابتدا ہے اور نہ ہی انتہا ، بذاتِ خود قائم اوراوروں کاقائم رکھنے والاہے ۔ اس کاکوئی اختتام نہیں ، وہ باقی اور غیرفانی ہے ۔ اس کے لئے انجام وزوال نہیں ۔ اس کی ذات بزرگی پر دلالت کرنے والی صفات سے متصف ہے ۔ زمانے گزرتے اور دن رات ختم ہوتے جائیں گے لیکن اس کی ذات نہ ختم ہونے والی ہے ، نہ ٹوٹنے والی بلکہ اس کی شان یہ ہے:
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳) ( پ ۲۷ ، الحدید :۳)
ترجمۂ کنزالایمان : وہی اوّل وہی آخر وہی ظاہروہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے ۔
کلمۂ شہادت کے پہلے جزعقیدۂ توحید کی وضاحت
ہرعیب ونقص سے پاک ذات:
اللّٰہ سُبْحَانُہٗ وَتَعَالٰی جسم وجسمانیت سے پاک ہے ۔ وہ متناہی اور قسمت کے تابع جوہر نہیں ۔ وہ جسم کی مثل نہیں کیونکہ اجسام تو ایک حد میں محدود اور قابلِ تقسیم ہوتے ہیں ۔ نہ تووہ جوہر ہے نہ عرض (1 ) اور نہ ہی جواہر وعوارض اس میں حلول کئے ہوئے ہیں ۔ نہ تووہ کسی موجودکے مشابہ ہے اور نہ ہی کوئی موجود اس کے مشابہ ۔ (بلکہ قرآنِ مجید میں ہے:)
لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ- ( پ ۲۵ ، الشورٰی :۱۱) ترجمۂ کنزالایمان : اس جیسا کوئی نہیں ۔
اور نہ ہی وہ کسی جیسا ہے ۔ وہ مقداروں میں شمار ہونے اور کناروں وسمتوں میں احاطہ کئے جانے سے یوں پاک ہے کہ زمین وآسمان بھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنی شایان شان اور اپنے فرمان وارادے کے مطابق عرشِ عظیم پر استوا فرمائے ہوئے ہے ۔ اس کا استوا چھونے ، جائے گیر ہونے ، جائے پذیر ہونے ، کسی چیز میں حلول کرنے اور منتقل ہونے سے منزہ ہے ۔ عرش اسے نہیں اٹھاتا بلکہ عرش وحاملینِ عرش کا قیام اس کی قدرت ولطف کا محتاج اور ان سب کا نظام اس کے قبضۂ قدرت میں ہے ۔ وہ تحت الثری کی گہرائیوں ، آسمان کی وسعتوں اور عرش کی بلندیوں سے بلند تر ہے ۔ اس کی اِس بلندی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین وتحت الثری سے دُور اور ان کی نسبت عرش وآسمان سے قریب ہے بلکہ وہ زمین وتحت الثری سے جس طرح بلند وعظمت والا ہے اسی طرح عرش وآسمان سے بھی عظیم ترہے ۔ لیکن ان تمام تر بلندیوں اورعظمتوں کے باوجود وہ ہر موجود شے کے قریب اور انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔
وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۴۷) (پ۲۲ ، السبا :۴۷) ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے ۔
جس طرح اس کی ذات اجسام کی مانند نہیں ، اسی طرح اس کا قرب بھی عام طور پر ایک جسم کے دوسرے جسم کے قریب ہونے کی طرح نہیں ۔ نہ وہ کسی شے میں حلول (2 )کئے ہوئے ہے اور نہ ہی کوئی شے اس میں حلول کئے ہوئے ہے ۔ جس طرح کوئی زمانہ اسے نہیں گھیرسکتااسی طرح وہ کسی مکان میں بھی نہیں سماسکتابلکہ وہ مکان وزمان کی تخلیق سے بھی پہلے کاموجودہے اور اب بھی پہلے کی طرح ہی ہے ۔ اپنی جمیع صفات سمیت مخلوق سے ممتاز ہے ۔ نہ تواس کی ذات میں کوئی دوسرا ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کی ذات میں ہے ۔ وہ بدلنے ، منتقل ہونے اور حوادث وعوارض کے لاحق ہونے سے منزہ ومبرا ہے ۔ وہ اپنی بزرگ وبرتر صفات کے ساتھ دائمی طور پر متصف اور فنا سے پاک ہے ۔ اس کی صفاتِ کمالیہ مزید کمال پانے سے مستغنی ہیں ۔ ذات باری تعالیٰ کا وجود عقل سے بھی جاناجاسکتاہے ۔ نیک لوگ اس کے فضل وکرم سے جنت میں اس کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور دیدارِ الٰہی سے ہی اس کی عطا کردہ نعمتیں پایۂ تکمیل کو پہنچیں گی ۔
صفات باری تعالٰی
حیات وقدرت:
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ زندہ ، قادرمطلق ، غالب اور عظمت والا ہے ۔ کوتاہی وعاجزی سے ورا ہے ۔ اسے نہ اُونگھ آئے نہ نیند ۔ اس کے لئے فنا ہے نہ موت ۔ ملکوت و ملک اور عزت و عظمت کا مالک ہے ۔ حقیقی بادشاہت و اقتدار والا ہے ۔ پیدا کرنااور حکم دینا سب اسی کے اختیار میں ہے ۔ تمام آسمان اور جمیع مخلوق اسی کے تحت قدرت ہے ۔ وہ تخلیق وایجاد اور بے مثل اشیاء پیدا کرنے میں یکتاولاشریک ہے ۔ مخلوق ، اس کے اعمال کی تخلیق اور ان کے لئے رزق وموت کی تعیین فرمانے والا ہے ۔ کسی بھی شے کا وجود اور معاملات میں تصرُّفات اس کے اختیار سے باہر نہیں نیزاس کے تحت ِ قدرت اشیاء کا شمار اور ان کی معلومات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا ۔
علم الٰہی:
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمام معلومات کا عالم ہے ۔ زمین کی گہرائیوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک ہونے والے تمام معاملات اس کے احاطے میں ہیں ۔ وہ ایسا عالم ہے کہ زمین وآسمان کی ذرّہ بھر چیز بھی اس سے پنہاں نہیں بلکہ اندھیری رات میں صاف چٹان پر سیاہ چیونٹی کے چلنے کی آواز اور فضا میں بکھرے ذرّات کی حرکات کو بھی جانتا ہے ۔ اسے ظاہر وپوشیدہ ہر چیز کا علم ہے ۔ اپنی قدیم اَزَلی اور ہمیشہ سے ہمیشہ رہنے والی صفت ِ علم سے دل میں اُبھرنے والے خطروں ،
وسوسوں اور پوشیدہ باتوں سے باخبر ہے ۔ اس کا علم ایسا نہیں کہ اس کی ذات میں حلول وانتقال سے نوپید ہو ۔
ارادۂ خداوندی :
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی تخلیق کائنات کا ارادہ فرمانے والا اور نوپید چیزوں کی تدبیر فرمانے والا ہے ۔ عالم بالا ہو یا عالمِ دنیا اس کا ہر تھوڑ اوزیادہ ، چھوٹا وبڑا ، اچھا وبرا ، نفع و نقصان ، کفر وایمان ، علم وجہالت ، کامیابی وناکامی ، کمی وبیشی اور طاعت ومعصیت ذاتِ باری تعالیٰ ہی کی قضاوقدرت اور حکمت ومشِیَّت سے ہے ۔ اس نے جو چاہا وہ ہوا جو نہ چاہا نہ ہوا ۔ حتی کہ پلک کی جھپک اور دل کی کھٹک تک مشیت ِالٰہی سے خارج نہیں بلکہ وہی نئے سرے سے پیدا کرنے والا ، دوبارہ زندہ کرنے والااورجب جو چاہے کرنے والا ہے ۔ کوئی بھی ایسا نہیں جو اس کے امر میں رکاوٹ بنے یااس کے فیصلے کو ٹال سکے ۔ بندے کا اس کی نافرمانی سے بچنا یا اس کی عبادت پر کمربستہ ہونااس کی توفیق ورحمت اور اس کے ارادے و مشیت سے ہی ممکن ہے ۔ اگر تمام جن وانس اور ملائکہ وشیاطین مل کر مشیت ِ خداوندی کے بغیر کائنات کے محض ایک ذرّے کو ہی حرکت دینا یا ٹھہرانا چاہیں تو ایسا نہیں کر سکتے ۔ اس کا ارادہ تمام صفات سمیت اس کی ذات سے قائم اور ہمیشہ سے ان اوصاف کے ساتھ متصف ہے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جن اشیاء کو جن اوقات میں پیدا کرنے کا ازل میں ارادہ فرمایا ، وہ سب چیزیں ازلی ارادہ ٔ خداوندی کے عین مطابق بغیرکسی تقدیم وتاخیر اور بلا کسی تغیر وتبدل کے اپنے مقررہ وقت وحالت میں وجود میں آ گئیں ۔ اس کے کاموں کی تدبیر سوچ بچاراور وقت کا انتظار کرنے سے منز ہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک کام اسے دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا ۔
سمیع وبصیر:
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سمیع وبصیر ہے ۔ وہ سنتا دیکھتا ہے ۔ کوئی بھی سنی جانے والی چیزکیسی ہی مخفی ہو اور کوئی بھی چیز خواہ کتنی ہی باریک ہو اس کی سماعت و بصارت سے غائب ومخفی نہیں ہو سکتی ۔ دوری وتاریکی اس کی سماعت وبصارت میں خلل نہیں ڈال سکتی ۔ جس طرح وہ علم کے لئے دل کا ، گرفت کے لئے عضو کا اور تخلیق کے لئے آلہ جات کامحتاج نہیں بالکل اسی طرح دیکھنے اورسننے کے لئے آنکھوں اور کانوں کا محتا ج نہیں کیونکہ جس طرح اس کی ذات مخلوق کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کی مثل نہیں ۔
کلامِ الٰہی :
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کلام فرمانے والا ، حکم دینے والا ، منع کرنے والا اور وعدہ ووعید فرمانے والا ہے ۔ کلام ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ قائم اَزَلی وقدیم صفات میں سے ایک صفت ہے ۔ اس کا کلام ، مخلوق کے کلام کے مشابہ نہیں ۔ اس کا کلام ہوا کے اندر سے یا اجسام کی رگڑ سے پیدا ہونے والی آواز نہیں نیزاس کا کلام کرنا ہونٹوں کے ملنے اور زبان کے حرکت کرنے کا بھی محتاج نہیں ۔ قرآن ، توریت ، زبوراور انجیل اس کے رسولوں پر نازل ہونے والی اس کی کتابیں ہیں ۔ قرآنِ پاک زبانوں سے پڑھا جاتا ، اوراق پر لکھا جاتا اور دلوں میں محفوظ کیا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود یہ کلامِ پاک قدیم اور ذاتِ الٰہی کے ساتھ قائم ہے ۔ اسے اَوراق پر لکھنے یادلوں میں محفوظ کرنے سے ایسا نہیں کہ یہ ذاتِ الٰہی سے جدا یا الگ ہو گیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام بغیر آواز اورحروف کے سماعت فرمایا ۔ یوں ہی نکوکاروں کو جنت میں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا دیدار بھی اس طرح ہوگا کہ وہ نہ جو ہر ہوگا نہ عرض ۔
وہ ان صفات سے متصف ہے تو محض ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ حیات ، قدرت ، علم ، ارادہ ، سماعت ، بصارت اور کلام کی وجہ سے زندہ ، عالِم ، قادر ، ارادہ کرنے والا ، سننے اور دیکھنے والا اور کلام فرمانے والا ہے ۔
افعالِ الٰہیہ:
سوائے ذات باری تعالیٰ کے ہرشے کا وجود اسی کے فعل اوراسی کے فیضانِ عدل سے ہے ۔ وہ سب چیزوں کا وقوع نہایت اچھے ، کامل ، مکمل اور مناسب طریقے پر فرماتا ہے ۔ اس کے تمام اَفعال واَحکام حکمت وعدل پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس کے عدل وانصاف کو بندوں کے عدل وانصاف پر قیاس نہیں کیا جائے گاکیونکہ بندے سے ظلم ہو سکتا ہے اس طرح کہ جب وہ غیر کی مِلک میں تصرُّف کرے گا تو ظالم کہلائے گاجبکہ مالک ِ دوجہاں عَزَّوَجَلَّ سے ظلم ہونا متصور ہی نہیں کیونکہ اُس کے سوا کسی کی ملک ہے ہی نہیں چہ جائیکہ اس میں تصرُّف یا ظلم کیا جائے ۔ سوائے اس کی ذات کے جو بھی ہے جنّ وانسان ، فرشتہ وشیطان ، زمین وآسمان ، حیوان وبے جان ، سبزہ ، جوہر وعرض ، سمجھی اور محسوس کی جانے والی تمام کی تمام معدوم اشیاء کو اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے وجود بخشا اور نیست(یعنی غیر موجود) کو ہست (یعنی موجود) فرمایا ۔ وہ اَزَل میں موجود تھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ۔ پھر اس نے اپنے ارادے کو ثابت کرنے اور اپنی قدرت کو ظاہر کرنے کے لئے کائنات کی تخلیق فرمائی اس وجہ سے کہ وہ ازل میں اس کی تخلیق کا ارادہ فرما چکا تھا ، یہ وجہ نہیں کہ اسے اس کی کوئی ضرورت وحاجت تھی ۔
وہ مخلوق کو پیدا کرے ، بنائے اور انہیں مکلَّف ٹھہرائے تو یہ محض اس کا فضل ہے ، اس پرضروری و لازم نہیں ۔ اسی طرح وہ اپنی مخلوق کو انعامات سے نوازے اور ان کی اصلاح کرے تویہ اس کی مہربانی ہے ، اس پر لازم نہیں ۔ وہی فضل واحسان اور انعام واکرام فرمانے والا ہے ۔ وہ بندوں کوطرح طرح کے عذابات میں مبتلا کرنے اور انہیں مختلف مصائب وآلام سے دوچار کرنے پر قادر ہے ۔ اگر وہ ایسا کرے بھی تو یہ اس کی طرف سے برائی یا ظلم نہیں بلکہ عدل ہی عدل ہے ۔ اپنے مومن بندوں کو نیکیوں کا اچھاصلہ دینامحض اس کے کرم و وعدے کے مطابق ہے ورنہ نہ توبندے اس کے مستحق ہیں اورنہ ہی اس پر ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ کسی کی وجہ سے کوئی فعل کرنا اس پر واجب نہیں اور کسی کا اس پر کچھ حق بھی نہیں اور ظلم کی نسبت تو اس کی طرف کر ہی نہیں سکتے ۔
اس نے انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واسطے سے بندوں پراپنا حق بصورتِ طاعت لازم کیا ۔ محض عقل کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا پھر ان کے صدق کو ظاہر وباہر معجزات کے ذریعے ثابت کیا اور انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ربُّ الانام کے احکام ، اس کی منع کردہ چیزوں اور اس کے وعدہ ووعید کا پیغام خلق تک پہنچایا ۔ اب بندوں پر لازم ہے کہ وہ ان نفوسِ قدسیہ کے لائے ہوئے پیغام کو سچاجانیں ۔
کلمۂ شہادت کے دوسرے جز کی وضاحت
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی گواہی دینا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے غیب کی خبریں دینے والے ، کسی آدمی سے نہ پڑھنے والے اور قبیلۂ قریش سے تعلق رکھنے والے حضرت سیِّدُنامحمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عرب وعجم کے تمام علاقہ جات اورجن و انس میں سے ہر ایک کی جانب پیغامِ رسالت دے کر مبعوث فرمایا ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سوائے ان باتوں کے جنہیں باقی رکھنا مقصود تھا سابقہ تمام شرعی اَحکام شریعت ِمحمدی لاکر منسوخ فرما دئیے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت دے کربنی آدم کا سردار بنایا اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر اعتقاد رکھنے کو اس وقت تک قبول نہ فرمایا جب تک کہ اس کے ساتھ محمدرسول اللّٰہ پر ایمان لانے کو نہ ملایاجائے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق پر لازم کردیا کہ وہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمورِ دنیا و آخرت کے متعلِّق دی ہوئی خبروں کو سچا جانیں نیزآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے موت کے بعد پیش آنے والے احوال کی جو خبریں دیں جب تک بندہ ان پر ایمان نہ لائے گا مومن نہیں کہلائے گا ۔
منکر نکیرکے سوالات:
ان احوال میں سے ایک منکر نکیر کا سوال کرنا ہے ۔ (3 ) یہ دونوں ڈراؤنی اور ہیبت ناک انسانی شکل میں تشریف لاتے اور بندے کو قبر میں سیدھا بٹھا دیتے ہیں ۔ اس وقت بندہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ پھروہ بندے سے توحید ورسالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا ربّ کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اورتیرا نبی کون ہے؟ یہ دونوں فرشتے قبرکی آزمائش ہیں(4 )اور بندے کے لئے بعد موت پہلی آزمائش منکر نکیر کے سوالات کا سامنا کرنا ہے ۔ بندے پر لازم ہے کہ وہ عذابِ قبر کو حق جانے اور اس پر یقین رکھے(5 )اور جسم وروح دونوں پر اللّٰہ ربُّ العزَّت کا اپنی مشیت کے مطابق حکم نافذ کرنا عدل پر مبنی ہے ۔
میزانِ عمل:
بندے پریقین رکھنا ضروری ہے کہ میزان حق ہے ۔ ’’اس کے دو پلڑے اور ایک زبان ہے ۔ ‘‘ (6 ) اس کے ایک پلڑے کی وسعت زمین وآسمان کے طبقات جتنی ہے ۔ اس میں قدرتِ الٰہی سے لوگوں کے اَعمال تولے جائیں گے ۔ اس دن رائی کے دانوں اور ذرّوں تک کو باٹ بنا کرکمالِ عدل وانصاف کا مظاہرہ کیا جائے گا ۔ نیک اعمال کو اچھی صورت عطا کرکے میزان کے نورانی پلڑے میں رکھا جائے گا اور وہ پلڑا بفضلِ الٰہی ان اعمال پرمقرَّر کردہ درجوں کے مطابق بھاری ہو جائے گا اور برے اَعمال قبیح صورت میں میزان کے کالے پلڑے میں پھینکے جائیں گے اور وہ پلڑاربِّ لم یَزَل کے عدل کے سبب ہلکا پڑ جائے گا ۔
پل صراط:
پل صراط کے حق ہونے کا یقین رکھنا بھی ضروری ہے(7 ) جو جہنم کی پشت پر بنایا گیا ہے ۔ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ۔ اسے پار کرتے ہوئے کفار کے قدم بحکمِ خداوندی پھسلیں گے اور وہ جہنم میں جا گریں گے جبکہ مسلمان رحمت ِ خداوندی کے سبب اسے ثابت قدمی سے پار کرکے جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔
حوضِ کوثر:
متن ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472برداشتهشده در 2026-10-21
این متن عربی «احیاء علوم الدین» غزالی است، چنانکه در پیکرهٔ OpenITI آمده، از نسخهٔ شامله از چاپ دارالمعرفه. کسی آن را با کتاب چاپی یا نسخهٔ خطی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است. پیکره میگوید در برخی صفحات بخشی از متن افتاده و پانوشتهای مصحح با متن آمیخته است؛ هر دو همانگونه که هست نشان داده میشود. پایان هر صفحهٔ چاپ نشانگذاری شده است. ترجمهها از آنِ مترجمانشان است؛ هر یک از نسخهای که نامش در کنار آن آمده خوانده شده و زیر هر کتاب، با عنوانهای خودِ مترجم، بهصورت متنی جداگانه نشان داده میشود: هیچیک سطر به سطر در برابر عربی نهاده نشده، ترجمهٔ انگلیسی کریم چنانکه مترجمش میگوید کتاب را خلاصه میکند، و هر یک خطاهای نسخهای را که از آن خوانده شده نگه میدارد. سبیل چیزی ترجمه نکرده، هیچ ترجمهای را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی هیچیک را بازبینی نکرده است.