پرش به محتوا
کتاب ۱۴ · احیاء علوم الدین
کتاب ۱۴ · اردو

حلال و حرام کا بیان

این ترجمه از آنِ مترجم آن است، نه سبیل. همان‌گونه که منبعش می‌دهد نشان داده می‌شود: زیر هر کتاب، با عنوان‌های خودِ مترجم، به‌صورت متنی جداگانه؛ سطر به سطر در کنار عربی نمی‌ایستد و خطاهای نسخه‌ای را که از آن خوانده شده نگه می‌دارد. سبیل آن را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است.

ترجمهٔ Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںخوانده‌شده از dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)برداشته‌شده در 2026-10-22

آنچه منبع دربارهٔ آن می‌گوید: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کےلئے ہیں جس نے انسان کوچپکنے والی خشک مٹی سے پیدا فرمایا،پھراسے اچھی صورت عطافرمائی اوراسے نہایت اعتدال پر رکھا،پھر اس کی ابتدائی نشو ونماگوبر وخون کے درمیان سے نکلنے والے دودھ کے ذریعے کی کہ وہ پانی کی طرح آسانی کے ساتھ حلق سے اترجاتا ہے، پھر اسے پاکیزہ رزق عطا فرماکر کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رکھا،پھرغلبہ کرنے والی اس کی دشمن شہوت کو قید کیا اوربندے پر حلال غذاکی طلب فرض کرکے اُس شہوت کو قابو میں رکھا اورشہوت کو توڑکرگمراہ کرنے کے لئے مستعد شیطانی لشکر کو بھگا دیا اور یہ حقیقت ہے کہ شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے،لہٰذا حلال کی قوت وغلبہ اس کے راستوں کو تنگ کر دیتاہے کیونکہ غلبہ وآزادی کی طرف مائل شہوت ہی اسے رگوں کی گہرائیوں میں پھیلاتی ہے۔پس اگران شہوات کو حلال کی لگام ڈال دی جائے تو شیطان ذلیل ورسوا ہو گااور اس کا کوئی مددگار اور حمایتی نہ رہے گااورگمراہی سے نکالنے والی ہستی حضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے،احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کی بہترین آل پر درود اور خوب سلام ہو۔

مشکل سے سمجھ میں آنے والا فرض:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ قاسم نعمت، مالکِ جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم یعنی رزق حلال حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ (48 )

تمام فرائض میں سے یہ فرض ایسا ہے جس کا سمجھنا عقلوں کے لئے بہت دشوار اور اس کا بجالانا اعضاء پر بہت بھاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کا علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا بالکل ختم ہو چکا ہےاوراس پر عمل کے ختم ہونے کا سبب اس کے علم کا پیچیدہ ہونا ہےکیونکہ جاہل لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ” حلال چیز حاصل کرنا مفقود ہو گیا اور اس تک پہنچنے کے تمام راستے بند ہو گئے اور نہروں کے پانی اور بنجر وویران زمین میں اگنے والی گھاس کے علاوہ کوئی حلال چیز باقی نہیں رہی اور اس کے علاوہ جوکچھ ہے اسے ظالموں نے خراب اور برے معاملات نے فاسد کردیا۔پس جب زمینی پیداوار میں گھاس پر قناعت کرنا مشکل ہو گیا تو حرام کے ارتکاب کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔“

افسوس!جاہلوں نے دین کے مرکز کو بالکل چھوڑ دیا۔انہوں نے نہ تو حلال و حرام میں تمیز کی اورنہ ہی حلال کی فضیلت کو سمجھاحالانکہ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان بہت سےمشتبہ امور(مشکوک معاملات) ہیں۔ حالات جیسے بھی ہو جائیں یہ تینوں اقسام باقی رہیں گی۔ چونکہ یہ ایک بدعتِ قبیحہ تھی جس کا نقصان دین میں عام ہو گیااور لوگوں میں اس کی خرابیاں پھیل گئیں، لہٰذا حلال وحرام اور مشتبہ امور کے درمیان تحقیق و وضاحت کے ذریعے فرق بیان کر کے اس بدعتِ قبیحہ کی خرابیوں کوبے نقاب کرنا ضروری ہو گیاتھا۔ہم درج ذیل سات ابواب میں اس کی وضاحت کریں گے:

(1)…حلال کی فضیلت،حرام کی مذمت اور ان کی صفات و درجات کابیان۔(2)…شبہات کے در جات، مواضع اور انہیں حلال و حرام چیزوں سے جدا کرنے کابیان۔(3)… حلال و حرام کی تحقیق، سوال کرنا، ہجوم،غفلت اور ان کے مقامات کابیان۔(4)… مالی حقوق سے توبہ کرنے کا طریقہ۔(5)… بادشاہوں کے وظائف وانعامات اور ان میں سے کون سے حلال ہیں اور کون سے حرام ؟(6)… بادشاہوں سے ملاقات اور ان سے میل جول کابیان۔(7)… مختلف مسائل کابیان۔

معاف کرو معافی پاؤ

فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا اور معاف کرنا اختیار کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں معاف فرمادے گا۔ ( مسندامام احمد ،۲/ ۶۸۲، الحدیث :۷۰۶۲، دارالفکربیروت )

سنن ابن ماجه ، کتاب الصدقات ، باب انظارالمعسر ، ۳ / ۱۴۷، الحديث : ۲۴۱۷، بتغير

المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندعثمان بن عفان ، ۱ / ۱۵۸، الحديث : ۵۳۲

قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۴۳

المعجم الاوسط ، ۴ / ۶۴، الحديث : ۵۲۲۲

سنن الترمذی ، کتاب الفتن ، باب رقم : ۶۸، ۴ / ۱۱۲، الحديث : ۲۲۶۲

صحيح ابن حبان ، کتاب البيوع ، باب الاقالة ، ۷ / ۲۴۳، الحديث : ۵۰۰۷

سونے چاندی کے بلا زنجیر کے بٹن یا استعمال ناجائز ہو جیسے چاندی سونے کے برتن، گھڑی، کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لئے حرام ہے، غرض جو کچھ ہو زکوٰۃ سب کی واجب ہے۔(بہارشريعت، ۱ / ۹۰۳)

المعجم الاوسط ، ۲ / ۴۱، الحديث : ۲۴۳۵ … قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۵۳

قوت القلوب لابی طالب المکی ، ۲ / ۴۴۸

الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ، ۶ / ۱۶۷، الرقم : ۱۲۶۹ : عمران بن مسلم مکی

[48][48]'> المعجم الاوسط ، ۶ / ۲۳۱، الحديث : ۸۶۱۰ … المعجم الکبير ، ۱۰ / ۷۴، الحديث : ۹۹۹۳، بتغيرقليل

باب نمبر1: حلال کی فضیلت،حرام کی مذمت، ان کی صفات و درجات کا بیان

(یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے)

پہلی فصل: حلال کی فضیلت اور حرام کی مذمت حلال وحرام سے متعلق6فرامین باری تعالٰی:

(1)… كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ- ( پ ۱۸، المؤمنون :۵۱)

ترجمۂ کنز الایمان :پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو ۔

یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اعمال بجالانے سے پہلے پاکیزہ چیزیں کھانے کا حکم دیا ہےاور کہا گیا ہے کہ

”اَلطَّیِّبٰتِ“سے مراد حلال چیزیں ہیں۔

(2)… وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ( پ ۲، البقرة :۱۸۸)

ترجمۂ کنز الایمان :اورآپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ۔

(3)… اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) ( پ ۴، النسآء :۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان :وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے(بھڑکتی آگ) میں جائیں گے۔

(4)… یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸) ( پ ۳، البقرة :۲۷۸)

ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود، اگر مسلمان ہو ۔

(5)… فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ- ( پ ۳، البقرة :۲۷۹)

ترجمۂ کنز الایمان :پھر اگرایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لےلو ۔

(6)… وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۷۵) ( پ ۳، البقرة :۲۷۵)

ترجمۂ کنز الایمان :اور جواب ایسی حرکت کرے گا وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔

سود کھانے والے کوپہلے(آیت نمبر5:میں) اللہ عَزَّوَجَلَّ سے جنگ کا یقین دلایا گیا اورپھر(آیت نمبر6:میں) دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہونے والابتایا گیا۔حلال وحرام کے بارے میں وارد آیاتِ طیبہ بہت ہیں ہم نے بعض کے ذکرپر اکتفا کیا ہے۔

حلال وحرام سے متعلق 18فرامین مصطفٰے:

(1)… طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم یعنی رزق حلال حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(1 )

حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:” طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“(2 )بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ اس سے مرادحلال اور حرام کا علم حاصل کرنا ہے۔انہوں نے دو نو ں حدیثوں سے ایک ہی معنی مراد لیا۔

۴۰ از ۱۳۲۳
متن عربی
كتاب الحلال والحرام وهو الكتاب الرابع من ربع العادات من كتاب إحياء علوم الدين

متن ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472برداشته‌شده در 2026-10-21

این متن عربی «احیاء علوم الدین» غزالی است، چنان‌که در پیکرهٔ OpenITI آمده، از نسخهٔ شامله از چاپ دارالمعرفه. کسی آن را با کتاب چاپی یا نسخهٔ خطی مقابله نکرده و هیچ عالمی آن را بازبینی نکرده است. پیکره می‌گوید در برخی صفحات بخشی از متن افتاده و پانوشت‌های مصحح با متن آمیخته است؛ هر دو همان‌گونه که هست نشان داده می‌شود. پایان هر صفحهٔ چاپ نشان‌گذاری شده است. ترجمه‌ها از آنِ مترجمانشان است؛ هر یک از نسخه‌ای که نامش در کنار آن آمده خوانده شده و زیر هر کتاب، با عنوان‌های خودِ مترجم، به‌صورت متنی جداگانه نشان داده می‌شود: هیچ‌یک سطر به سطر در برابر عربی نهاده نشده، ترجمهٔ انگلیسی کریم چنان‌که مترجمش می‌گوید کتاب را خلاصه می‌کند، و هر یک خطاهای نسخه‌ای را که از آن خوانده شده نگه می‌دارد. سبیل چیزی ترجمه نکرده، هیچ ترجمه‌ای را با عربی مقابله نکرده و هیچ عالمی هیچ‌یک را بازبینی نکرده است.