Al-Mursalaat
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا 25 أَحْيَآءً وَأَمْوَٰتًا 26 وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءً فُرَاتًا 27 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 28
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28)
[28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔