Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Mulk
Sūrah 67

Al-Mulk

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 13–14

وَأَسِرُّوا۟ قَوْلَكُمْ أَوِ ٱجْهَرُوا۟ بِهِۦٓ ۖ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ 13 أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ 14

اور تم چھپا کر کرو اپنی بات یا پکار کر کرو اس کو، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (13) کیا (بھلا) نہیں جانے گا وہ جس نے (سب کو) پیدا کیا؟ اور وہ نہایت باریک بین ، خبردار (بھی) ہے (14)

[13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَكُمۡ اَوِ اجۡهَرُوۡا بِهٖ﴾ ’’اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔‘‘ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟

[14] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ يَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰى﴾(طٰہٰ:20؍7) ’’چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔