Al-Hadid
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌ 22 لِّكَيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ 23 ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ 24
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
[23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘
[24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔