Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Muhammad
Sūrah 47

Muhammad

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verse 33

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوٓا۟ أَعْمَـٰلَكُمْ 33

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور نہ باطل کرو اپنے عملوں کو (33)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انھیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔‘‘ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً: نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر ، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کر کے ان کے اجر و ثواب کو ضائع کر دیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کو اس کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو شامل ہے، مثلاً: عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاءS بغیر کسی موجب کے فرض کو منقطع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اس نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔