Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yaseen
Sūrah 36

Yaseen

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 33–36

وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ 33 وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـٰتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـٰبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ 34 لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ 35 سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ 36

اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36)

[33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔

[34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔

[35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

[36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔