Faatir
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَـٰلِقٍ غَيْرُ ٱللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ 3 وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ 4
اے لوگو! یاد کرو نعمت اللہ کی اوپر اپنے، کیا کوئی اور خالق ہے سوائے اللہ کے، جو رزق دے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے(بہکائے)جاتے ہو؟(3)اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(4)
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد وثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اور وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا:﴿هَلۡ مِنۡ خَالِـقٍ غَيۡرُ اللّٰهِ يَرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے؟‘‘ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق عطا کرتا ہے اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیز اس کی الوہیت اور عبودیت پر دلیل ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖٞ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی خالق و رازق کی عبادت کو چھوڑ کر، مخلوق کی عبادت کرتے ہو، جو خود رزق کی محتاج ہے۔
[4]﴿وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ ﴾ ’’(اے رسول!) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں‘‘ تو آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین میں آپ کے لیے نمونہ ہے ﴿فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے۔‘‘ تو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘