Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · As-Sajda
Sūrah 32

As-Sajda

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 15–17

إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَٔايَـٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا۟ بِهَا خَرُّوا۟ سُجَّدًا وَسَبَّحُوا۟ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩ 15 تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ 16 فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ 17

بے شک ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر صرف وہی لوگ کہ جب نصیحت کیے جاتے ہیں وہ ان کی تو گر پڑتے ہیں وہ سجدہ کرتے ہوئے اور وہ تسبیح کرتے ہیں حمد کے ساتھ اپنے رب کی اور وہ نہیں تکبر کرتے (15) علیحدہ رہتے ہیں ان کے پہلو خواب گاہوں سے، وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو خوف سے اور امید کرتے ہوئے اور کچھ اس میں سے جو ہم نے انھیں رزق دیا، وہ خرچ کرتے ہیں (16) پس نہیں جانتا کوئی نفس وہ جو چھپا رکھی گئی ہے ان کے لیے ٹھنڈک آنکھوں کی، بدلہ (دینے کے لیے) ان کا جو تھے وہ عمل کرتے (17)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عذاب کا ذکر کرنے کے بعد، جو اس نے اپنی آیتوں کا انکار کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، اہل ایمان کا ذکر فرمایا اور ان کے ثواب کا وصف بیان کیا، جو ان کے لیے تیار کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا ﴾ یعنی جو ہماری آیتوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور جن میں ایمان کے شواہد پائے جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا ﴾ جن کے سامنے جب قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے، رسولوں کے توسط سے ان کے پاس نصیحتیں آتی ہیں، انھیں یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ اسے غور سے سنتے ہیں، ان کو قبول کر کے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ﴿خَرُّوۡا سُجَّدًا ﴾ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے، ذکر الٰہی کے خضوع اور اس کی معرفت کی فرحت کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں ﴿وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے دلوں میں تکبر رکھتے ہیں نہ بدن سے اس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل نہ کریں بلکہ اس کے برعکس وہ آیات الٰہی کے سامنے سرافگندہ ہو جاتے ہیں، ان کو انشراح صدر اور تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے رب رحیم کی رضا حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔

[16]﴿تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ ﴾ ان کے پہلو نہایت بے قراری سے ان کے آرام دہ بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور وہ ایسی چیز میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ان آرام دہ بستروں سے زیادہ لذیذ اور زیادہ محبوب ہے۔ اس سے مراد رات کے وقت نماز اور اللہ سے مناجات ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ ﴾ دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی نقصانات کو روکنے کے لیے اپنے رب کو پکارتے ہیں ﴿خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾خوف اور امید دونوں اوصاف کو یکجا کر کے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں ان کے اعمال ٹھکرا نہ دیے جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ ان کے اعمال کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے گا۔ نیز اس خوف سے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں نہ آ جائیں اور اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انھیں ثواب سے سرفراز فرمائے گا۔﴿وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو ہم نے انھیں دیا ہے‘‘ خواہ وہ تھوڑا رزق ہو یا زیادہ ﴿يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور نہ اس شخص پر کوئی قید لگائی ہے، جس پر خرچ کیا جائے تاکہ آیت کریمہ عموم پر دلالت کرے... تب اس میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور اقارب وغیرہ پر خرچ کرنا، نفقات مستحبہ کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنا، مالی طورپر احسان کرنا مطلقاً نیکی ہے خواہ کسی محتاج کے ساتھ یہ احسان کیا جائے یا کسی مال دار کے ساتھ، اقارب کے ساتھ کیا جائے یا اجنبیوں کے ساتھ، مگر اس احسان کے افادے میں تفاوت کے مطابق اجر میں تفاوت ہوتا ہے۔ یہ تو ہے ان کا عمل۔

کیا پس وہ شخص جو ہے مومن، مانند اس شخص کی ہے جو ہے فاسق؟ نہیں وہ برابر ہو سکتے (18) لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو ان کے لیے ہیں باغات رہنے کے، بطور مہمانی بدلہ (میں) ان کے جوتھے وہ کرتے (19) اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے فسق کیا، تو ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب بھی ارادہ کریں گے وہ یہ کہ نکلیں وہ اس سے تو لوٹا دیے جائیں گے اسی میں اور کہا جائے گا ان سے: چکھو تم عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے(20)