As-Sajda
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍۭ ۚ بَلْ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كَـٰفِرُونَ 10 قُلْ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلْمَوْتِ ٱلَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ 11
اور انھوں نے کہا: کیا جب ہم گم ہو جائیں گے زمین میں تو کیا ہم بے شک البتہ نئی پیدائش میں (ظاہر) ہوں گے؟ (نہیں)بلکہ وہ تو ملاقات ہی سے، اپنے رب کی، انکار کرنے والے ہیں (10) کہہ دیجیے: فوت کرتا ہے تم کو فرشتہ موت کا، وہ جو مقرر کیا گیا ہے تم پر، پھر اپنے رب ہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (11)
[10] قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا: ﴿ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو گا۔ ﴿ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں، بلکہ یہ تو ظلم، عناد، اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿بَلۡ هُمۡ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔‘‘ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض و غایت معلوم ہو جاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے، زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔
[11]﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یعنی ارواح کا قبض کرنا جس کے سپرد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مددگار فرشتے بھی ہیں۔ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ تم نے قیامت کا انکار کیا ہے اس لیے دیکھو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ کیا کرتا ہے۔