Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Furqaan
Sūrah 25

Al-Furqaan

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 45–46

أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوْ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا ٱلشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا 45 ثُمَّ قَبَضْنَـٰهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا 46

کیا نہیں دیکھا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ کیسے پھیلا دیا اس نے سائے کو؟ اور اگر وہ چاہتا تو البتہ بنا دیتا اسے ساکن، پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر راہنما (45) پھر سمیٹ لیا ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹنا تھوڑا تھوڑا(46)

[46,45] کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا﴾ ’’پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر‘‘ یعنی سائے پر ﴿ دَلِيۡلًا ﴾ ’’دلیل‘‘ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، اسی سے لیل و نہار ترتیب پاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں پھر مختلف موسم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور اس سبب سے مخلوق کے بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں … یہ تمام امور اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک ہے وہ اپنے بندوں سے کمال رحمت و عنایت سے پیش آتا ہے۔ وہ اکیلا ہی معبود محمود، محبت اور تعظیم کا مستحق اور ذوالجلال والاکرام ہے۔