An-Noor
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱلطَّيْرُ صَـٰٓفَّـٰتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسْبِيحَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَفْعَلُونَ 41 وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ 42
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ، تسبیح کرتا ہے اس کے لیے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے (بھی) ہر ایک (مخلوق) نے یقینا جان لی ہے اپنی نماز (عبادت) اور اپنی تسبیح اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ وہ کرتے ہیں (41)اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف ہے واپسی (42)
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّيۡرُ صٰٓفّٰتٍ﴾ اور وہ پرندے (جو آسمان میں ) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک نے‘‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ ﴾ ’’جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں ، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں ، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں ، اپنے علم کو جمع کر دیا۔آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔