Maryam
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ إِسْمَـٰعِيلَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا 54 وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرْضِيًّا 55
اور ذکر کیجیے کتاب میں اسمٰعیل کا، بلاشبہ وہ تھا سچا وعدے کااور تھا وہ رسول نبی(54) اور تھا وہ حکم کرتا اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کااور تھا وہ نزدیک اپنے رب کے پسندیدہ (55)
[54] یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیلu) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسل چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ ﴾ یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اور جو بندوں سے کیے گئے… اسی لیے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چنانچہ انھوں نے اپنے والد سے کہا ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الصافات:37؍102) ’’اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے والد کو پورا اختیار دیا کہ وہ ان کو ذبح کریں ، جو کہ سب سے بڑی مصیبت ہے جو انسان کو پہنچ سکتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت اور نبوت سے متصف کیا جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر سب سے بڑا احسان ہے… اور انھیں مخلوق کے بلند ترین طبقے میں سے کیا۔
[55]﴿وَؔكَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ﴾’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کا حکم دیتے تھے۔‘‘ یعنی اپنے گھر والوں پر اللہ کا حکم نافذ کرتے تھے۔ پس انھیں نماز کا حکم دیتے جو معبود کے لیے اخلاص کو متضمن ہے اور زکاۃ کا حکم دیتے جو بندوں کے ساتھ احسان کرنے کو متضمن ہے۔ یوں انھوں نے اپنے آپ کو بھی درجۂ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے نزدیک خاص تھے اور وہ ان کے اہل خانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت و تبلیغ کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔﴿وَؔكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا﴾ اور اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے رب کی مرضیات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور ایسے امور سرانجام دینے میں کوشاں رہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ اس نے ان کو اپنے خاص بندوں اور اولیائے مقربین میں سے کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگئے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگئے۔