Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nahl
Sūrah 16

An-Nahl

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verse 70

وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمْ ۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرْذَلِ ٱلْعُمُرِ لِكَىْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ 70

اور اللہ نے پیدا کیا تمھیں ، پھر وہ وفات دیتا ہے تمھیں اور بعض تم میں سے وہ ہیں جو لوٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانیں وہ، بعد جان لینے کے، کچھ بھی۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا، نہایت قدرت والا ہے (70)

[70] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہی ہے جس نے بندوں کو پیدا کیا اور ان کو تخلیق کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل کیا اور جب وہ اپنی مدت مقررہ پوری کر لیتے میں تو اللہ تعالیٰ ان کو وفات دے دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ طویل عمر عطا کرتا ہے حتیٰ کہ ﴿ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ ﴾ ’’اس کو بدترین عمر تک پہنچا دیا جاتا ہے‘‘ اس عمر میں انسان ظاہری اور باطنی قوی کی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ عقل بھی، جو کہ انسان کا جوہر ہے، اس سے متاثر ہوتی ہے، اس کی عقل کی کمزوری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے جو اسے معلوم تھیں ، اس کی عقل بچے کی عقل کی مانند ہو جاتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ لِكَؔيۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’تاکہ سمجھنے کے بعد اب کچھ نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ جاننے والا، قدرت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کے دست قدرت کے تحت ہی ہے کہ آدمی تخلیق کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ ﴾(الروم: 30؍54) ’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمھیں کمزور حالت میں پید کیا پھر کمزوری کے بعد اس نے تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دے دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم اور قدرت والا ہے۔‘‘