Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · An-Nahl
Sūrah 16

An-Nahl

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 101–102

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةً مَّكَانَ ءَايَةٍ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ 101 قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ 102

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو بجائے (دوسری) آیت کے اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو وہ نازل کرتا ہے تو کہتے ہیں وہ (کافر) یقینا تو خود گھڑ لانے والا ہےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے (101) آپ کہہ دیجیے، نازل کیا ہے اس (قرآن) کو جبریل نے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کےتاکہ ثابت (قدم) رکھے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائےاورہدایت اور خوشخبری ہے واسطے مسلمانوں کے (102) اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بے شک وہ (کفار) کہتے ہیں کہ یقینا سکھاتا ہے اس کو (قرآن) ایک آدمی، (حالانکہ) زبان اس شخص کی کہ غلط نسبت کرتے ہیں وہ (قرآن کی) اس کی طرف، عجمی (غیر فصیح) ہےاور یہ (قرآن تو) زبان عربی ہے واضح (103)

[101] اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لیے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے، جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں ۔‘‘ پس وہ جاہل ہیں جنھیں اپنے رب کے بارے میں کچھ علم ہے نہ شریعت کے بارے میں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جاہل کی جرح و قدح کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ کسی چیز کے بارے میں جرح و قدح اس کے بارے میں علم کی ایک شاخ ہے جو مدح اور قدح کی موجب ہے۔

[102] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَزَّلَهٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کو روح القدس نے اتارا‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے جناب جبریلu ہیں جو نہایت مقدس اور ہر عیب، خیانت اور آفت سے پاک ہیں ۔ ﴿مِنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾’’آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی خبریں اور اس کے اوامر و نواہی حق پر مشتمل ہیں ۔ پس کسی کے لیے گنجائش نہیں کہ اس میں بامعنی جرح و قدح کر سکے کیونکہ جب اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ حق ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جو چیز اس کے متناقض اور معارض ہے، وہ باطل ہے۔﴿ لِيُثَبِّتَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو‘‘ وقتاً فوقتاً اس کی آیات کے نزول اور ان پر توارد کے وقت۔ اور یوں رفتہ رفتہ حق ان کے دلوں میں جا گزیں ہو کر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کیونکہ انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ حق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کوئی حکم مشروع کر کے اسے منسوخ کر دیتا ہے تو انھیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اسی جیسے یا اس سے بہتر کسی اور حکم سے بدل دیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا کسی حکم کو منسوخ کرنا حکمت ربانی اور عقلی مناسبت رکھتا ہے۔ ﴿ وَهُدًى وَّبُشۡرٰؔى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور ہدایت اور خوش خبری ہے واسطے مسلمانوں کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اشیاء کے حقائق کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے، ان کے سامنے باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کو واضح کرتا ہے اور وہ انھیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے، نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے احکام کو رفتہ رفتہ نازل کرنا اہل ایمان کے لیے زیادہ ہدایت اور بشارت کا باعث بنتا ہے۔ یک بارگی نازل کرنے سے فکر تفرق اور تشتت کا شکار ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حکم اور بشارت کو زیادہ کثرت سے نازل کرتا ہے۔ جب اہل ایمان ایک حکم کو سمجھ کر اس کی فہم حاصل کر لیتے ہیں ، انھیں اس کی مراد کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور وہ اس کے مفاہیم و معانی سے خوب سیراب ہو جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس جیسا ایک اور حکم نازل کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامy کتاب اللہ پر عمل کر کے بہت بڑے مقام پر پہنچ گئے، ان کی عادات اور طبائع بدل گئیں اور انھوں نے ایسے اخلاق، عادتیں اور اعمال اختیار کر لیے جن کی بنا پر وہ تمام اولین و آخرین سے بڑھ گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کے علوم کے ذریعے سے اپنی تربیت کریں ، اس کے اخلاق کو اپنائیں ، گمراہی اور جہالتوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں اور تمام حالات میں اس کو اپنا راہنما بنائیں پس اس طرح ہی ان کے دینی اور دنیاوی معاملات درست رہیں گے۔