Yusuf
This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.
Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ 84 قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ 85 قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ 86
اور اس نے منہ پھیرا ان سے اور کہا ہائے افسوس اوپر یوسف کے اور سفید ہو گئیں آنکھیں اس کی غم سے اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا (84)انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! تو سدا یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ ہو جائے تو (غم میں ) گھل جانے والا یا ہو جائے تو ہلاک ہونے والوں سے (85)اس نے کہا، میں تو شکایت کرتا ہوں اپنی بے قراری اور اپنے غم کی صرف اللہ کی طرف اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو نہیں جانتے تم(86)
[84] یعنی جب یعقوبu کے بیٹوں نے انھیں یہ خبر سنائی تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، ان پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ﴿ فَهُوَ كَظِيۡمٌ ﴾ ’’سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا‘‘ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔ ﴿ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اور کہا، اے افسوس یوسف پر‘‘ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوبu نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کر دی۔
[85] یعقوبu کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا: ﴿تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسفu کو یاد کرتے رہیں گے۔ ﴿ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا ﴾ ’’یہاں تک کہ آپ فنا ہو جائیں گے‘‘ آپ حرکت تک نہیں کر سکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ ﴿اَوۡ تَكُوۡنَؔ مِنَ الۡهٰؔلِكِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جائیں گے آپ ہلاک‘‘ یعنی آپ یوسفu کو یاد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے اس کو یاد کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
[86]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ ﴾ ’’میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب‘‘ یعنی میں جو بات کرتا ہوں ﴿ وَحُزۡنِيۡۤ ﴾ ’’اور اپنا غم‘‘ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے ﴿ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے سامنے‘‘ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمھارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں ۔ اس لیے تم جو چاہو کہتے رہو۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انھیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔