Skip to content
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yunus
Sūrah 10

Yunus

This is a tafsīr in a language other than Arabic as the Quranic Universal Library (QUL, by Tarteel) has it, taken through the open copy of QUL’s data that spa5k/tafsir_api keeps. QUL’s record does not say who wrote or translated it or which printed edition it follows, and states no licence for the text, so the right to show it is not verified. Nobody has compared it with a printed book, and no scholar has reviewed it. Each passage stands beside the verses it comments on, which are the Qur’ān text of Tanzil, shown as it is there. Sabīl did not write or translate any of it.

Text fromQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITtaken 2026-10-21

Verses 7–8

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ 7 أُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ 8

بے شک وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی اور راضی ہیں ساتھ زندگانی کے دنیا کی اور مطمئن ہیں اسی کے ساتھ اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں (7) یہی لوگ، ٹھکانا ان کا آگ ہے بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے (8)

[7]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ﴾ ’’جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش اور سب سے بڑی آرزو ہے بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں ﴿وَرَضُوۡا بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں ۔‘‘ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہوگئے۔ ﴿ وَاطۡمَاَنُّوۡا بِهَا ﴾ ’’اور اسی پر مطمئن ہو گئے‘‘ یعنی دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لیے کوشاں رہے، اس کی لذات و شہوات پر ٹوٹ پڑے۔ دنیا انھیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی، انھوں نے اسے حاصل کر لیا۔ دنیا کی چمک انھیں جہاں کہیں بھی دکھائی دی یہ اس کی طرف لپکے۔ انھوں نے اپنے ارادوں اور نیتوں کو دنیا ہی میں مصروف رکھا، ان کے افکار و اعمال دنیا ہی کے محور پر گھومتے رہے۔ گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور گویا کہ دنیا ایک گزرگاہ نہیں جہاں سے مسافر زاد راہ اکٹھا کر کے ہمیشہ رہنے والی منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ۔ اولین و آخرین اس منزل کی نعمتوں اور لذتوں کی طرف کوچ کرتے ہیں اور لپکنے والے انھی کی طرف لپکتے ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنۡ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ہماری آیتوں سے غافل ہیں ‘‘ پس یہ آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دلیل سے روگردانی درحقیقت مدلول مقصود سے روگردانی اور غفلت کو مستلزم ہے۔

[8]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے ﴿ مَاۡوٰىهُمُ النَّارُ ﴾ ’’ان کا ٹھکانا آگ ہے۔‘‘ یعنی ان کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہے جہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بہ سبب اس کے جو کماتے تھے‘‘ جہنم کا یہ عذاب اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے کفر، شرک اور مختلف قسم کے دیگر گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نافرمانوں کے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والے اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: