محبت،شوق،اُنس اور رضا کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
مقدمہ :
تمام تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے اپنے اولیاکے دلوں کو دنیا کی آرائش و زیبائش اور اس کی تروتازگی کی طرف اِلتفات کرنے سے دور رکھااور ان کے باطن کو اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کے مشاہدہ سے پاک و صاف رکھا،انہیں اپنی بارگاہِ عزت کے لئے خاص کیا،پھر ان پر اپنے اسماء اور صفات کی تجلی ڈالی حتّٰی کہ وہ اس کے انوارِ معرفت سے چمک اٹھے، پھر ان کے لئےاپنے انوار و تجلیات سے پردہ اٹھایا حتّٰی کہ وہ اس کی محبت کی آگ سے سوختہ جان ہو گئے ،پھر اپنے جلال کی حقیقت کے ساتھ ان سے حجاب میں ہوگیا حتّٰی کہ وہ اس کی کبریائی اورعظمت کی وسعتوں میں کھوگئےلہٰذاوہ جب جب حقیقتِ جلال کےمشاہدےکےلئے متحرک ہوتے ہیں تو ان پر ایسی حیرانی چھاجاتی ہے جو عقل اور بصیرت کودُھندلا دیتی ہے،پھر اگروہ مایوس ہو کر اس مشاہدے سے واپس ہونا چاہتے ہیں تو پردۂ جمال سے آواز دی جاتی ہے : ”اے جہل اور جلد بازی کے سبب حق کو پانے سے ناامید ہونے والے! صبر سے کام لے۔“ پس وہ رداور قبول نیزفراق اور وصال کے درمیان ایسے ہوجاتا ہے گویا اس کی معرفت کے سمندر میں غرق اور اس کی محبت کی آگ میں فناہے۔
اور بہت زیادہ درود و سلام ہو ہمارے سردار حضرت محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو اپنی کامل نبوّت اور اکمل رسالت کے ساتھ آخری نبی ہیں اور آپ کی آل اور اصحاب رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر بھی درود وسلام ہوجو مخلوق کے سردار و پیشوااور حق کےراہنما ہیں۔
محبت کے بارے میں17اُمور :
جاننا چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت مقامات ودرجات میں سب سے انتہائی درجہ رکھتی ہے اور درجَۂ محبت پر فائز ہونے کے بعد جو بھی مقام اور حال ہوگا جیسے شوق،اُنس اور رضاوغیرہ یہ اسی محبت کا ثمرہ اور اس کا تابع ہے جبکہ محبت سے پہلے جو بھی مقام اور حال ہوگاجیسے توبہ ،صبر اور زہد وغیرہ ، وہ محبت کے مقدمات میں سے ہے۔سارے مقامات اگرچہ نادِرُالْوُجُود ہیں مگر دل ان کے ممکن ہونے پر ایمان لانے سے خالی نہیں ہوتےاور جہاں تک محبَّتِ الٰہی کا تعلق ہے تو اس پر ایمان لانا بہت مشکل ہے۔ یہاں تک کہ بعض علمااس کے امکان کا انکارکرتے ہوئے کہتے ہیں : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا یہی معنی ہے کہ اس کی اطاعت پرہمیشگی اختیار کی جائے اور جہاں تک حقیقی محبت کا تعلق ہے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ محال ہے کیونکہ یہ ہم جنس اور ہم مثل کے ساتھ کی جاتی ہے۔“ پس جب انہوں نے حقیقتِ محبت کا انکار کیاتو اس کے ثمرات جیسے انس، شوق، لذتِ مناجات اور اسی طرح محبت کے تمام لوازمات اور توابع کا بھی انکار کردیا۔لہٰذا اس بات سے پردہ ہٹانا ضروری ہے۔چنانچہ اس باب میں ہم محبت کے بارے میں درج ذیل 17امور بیان کریں گے :
(۱)…بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےمحبت کے بارے میں وارد شرعی دلائل(۲)…محبت کی حقیقت اور اس کے اسباب(۳)…محبت کی مستحق صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہے(۴)…سب سے بڑھ کر لذت دیدارِ باری تعالی کی لذت ہے(۵)…دنیاوی معرفت کے مقابلے میں اخروی دیدار کی لذت کی زیادتی کا سبب(۶)…محبتِ الٰہی کو پختہ کرنے کے اسباب(۷)…محبت میں لوگوں کےمُتَفاوِت ہونے کا سبب(۸)…معرفتِ الٰہی میں سوچوں کی کوتاہی کا سبب(۹)…شوق کا معنی(۱۰)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے محبت(۱۱)…بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامات(۱۲)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ انس کا مطلب(۱۳)…انس میں اِنْبِساط(کشادگی) کا معنی (۱۴)…رضا کا معنی اور اس کی فضیلت(۱۵)…رضا کی حقیقت(۱۶)…دعا مانگنا،گناہ سے نفرت کرنااور گناہوں سے دور رہنارضا کے خلاف نہیں(۱۷)…مُحِبِّیْن کی مُتَفَرِّق حکایات۔
باب نمبر1 : محبتِ الٰہی کا بیان
(اس میں 11 فصلیں ہیں)
پہلی فصل : بندے کی اللہ تعالٰی سے محبت کے بارے میں واردشرعی دلائل
اللہ و رَسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت فرض ہے :
جان لو کہ اُمَّت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرنا فرض ہے ،اور جس چیز کا وجود ہی نہ ہو وہ کیسے فرض ہو سکتی ہے اور محبت کی تفسیر طاعت کے ساتھ کیونکر کی جا سکتی ہے حالانکہ طاعت تو محبت کا ثمرہ اور اس کا تابع ہے؟اس لئےضروری ہے کہ پہلے محبت ہو پھر دمی جس سے محبت کرتا ہے اس کی اطاعت کرے ۔
محبَّتِ الٰہی کے متعلق دوفرامین باری تعالٰی :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کے اثبات پر درج ذیل فرامیْنِ باری تعالٰی دلالت کرتے ہیں :
(1)…یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ- ( پ ۶، المائدہ : ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان : وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔
(2)…وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-( پ ۲، البقرة : ۱۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اورایمان والوں کو اللہ کے برابرکسی کی محبت نہیں۔
یہ آیات محبت کے اثبات پر دلالت کرتی ہیں اور اس بات پر بھی کہ لوگ محبت کرنے میں متفاوِت ہیں۔
محبَّتِ الٰہی کے متعلق تین فرامین مصطفٰے :
احادِ یْثِ مُبارَکہ میں رسولِ اَکرم، شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کو ایمان کی شرط قرار دیا ہے۔چنانچہ،
(1)…حضرتِ سیِّدُناابورَزِیْن عُقَیْلِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایمان کیا ہے؟ ارشاد فرمایا : ایمان یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں۔(1 )
(2)…تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں۔(2 )
(3)…بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل ، مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔(3 )
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔“(4 )
ایمان کے لئے محبت شرط ہے :
محبت کے بغیر مومن کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے : قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) ( پ ۱۰، التوبة : ۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظارکرو)یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ بات ڈرانےاور انکار کے طور پر ارشاد فرمائی ہے اور بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اس کا حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ رسولِ کریم ،رءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس لئےمحبت کرو کہ وہ اپنی نعمتیں کھلاتا ہے اور مجھ سے محبت اس لئےکرو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے محبت فرماتا ہے ۔(5 )
اہل محبت کے لئے آزمائشیں :
مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔رسولِ اَکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ”فقر کے لئےتیار ہوجاؤ۔“ اس نے پھر عرض کی : میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہوں۔ارشاد فرمایا : ”آزمائشوں کے لئےتیار ہو جاؤ۔ “(6 )
مینڈھے کی کھال :
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَحۡمَۃٌ لِّلۡعَالَمِیۡن ، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت مصعب بن عُمَیْر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کواس حال میں آتے دیکھاکہ انہوں نے مینڈھے کی کھال کمر پر لپیٹ رکھی تھی تو ارشاد فرمایا : اس شخص کی طرف دیکھو جس کے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے روشن کردیا ہے۔ بے شک میں نے اس کو اس کے والدین کے پاس دیکھاکہ وہ اسے بہترین کھانا کھلاتے اور عمدہ ترین مشروبات پلاتے تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں اس کا یہ حال ہوگیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔(7 )
سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے وصال کا قصہ :
مشہورحدیْثِ پاک ہے کہ جب مَلَکُ الْمَوْت عَلَیْہِ السَّلَام حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس ان کی روح قبض کرنے کے لئےآئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا : کیا تم نے کسی خلیل کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے خلیل کو موت دیتا ہو؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی : ”کیا تم نے کوئی محب دیکھا ہے جو اپنے محبوب کی ملاقات کوناپسند کرتا ہو؟“آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ”اے موت کے فرشتے! اب روح قبض کرلو۔‘‘(8 )
یہ مقام وہی بندہ پاسکتا ہے جو اپنے پورے دل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہو کیونکہ جب وہ جان لیتا ہے کہ موت محبوب کی ملاقات کا سبب ہے تو اس کا دل موت کے لئے بے چین ہوجاتا ہے اور ذاتِ باری تعالٰی کے علاوہ اس کا کوئی محبوب نہیں ہوتا کہ اس کی طرف اِلْتِفات کرے ۔
محبَّتِ باری تعالٰی کے لئے دعا :
رحمَتِ عالَم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس طرح دعا کیا کرتے تھے : ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اپنی محبت عطا فرما اور جو تجھ سے محبت کرتا ہے اس کی محبت اور جو تیری محبت کے قریب کردے اس کی محبت عطا فرمااور اپنی محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا۔“(9 )
مُحِبّ محبوب کے ساتھ ہوگا :
مروی ہے کہ ایک اَعْرابی نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکر عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !قیامت کب آئے گی؟رسولِ اَکرم ،شاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ”تم نے اس کے لئےکیا تیاری کی ہے؟“عرض کی : میں نے اس کے لئےبہت زیادہ نماز یں اور روزے تو جمع نہیں کئے البتہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتا ہوں۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے ارشاد فرمایا : ” اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ یعنی آدمی اسی کےسا تھ ہوگا جس سے محبت کرے گا۔“(10 ) (اس حدیث کے راوی )حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو جتنا اس بات پر خوش ہوتے دیکھا اتنا کسی اور بات پرخوش ہوتے نہ دیکھا۔(11 )
امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اشاد فرماتے ہیں : جو شخص خالص محبتِ الٰہی کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ اس کو طلَبِ دنیا سے دور کردیتا ہے اور اس کو تمام انسانوں سے وَحْشَت دلاتا ہے۔(12 )
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.