آدابِ مَعِیْشت اور اَخلاق نَبُوَّت کا بیان
This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.
Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22
What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا اور ہر ایک کو اس کے مقام و مرتبے میں ر کھا اور اپنے محبوب نبی حضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بہت عمدہ ادب سکھایا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اوصاف و اخلاق کو پاکیزہ وستھراکیا اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا صَفِی اور حبیب بنایا،پھر جسےعیبوں سے پاک کرنے کا ارادہ فرمایا اُسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا کی توفیق عطا فرمائی اور جسے خائِب وخاسِر کرنا چاہا اسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاق اپنانے سے محروم رکھا اوربے شمار دُرود و سلام ہو ہمارے سردار، رسولوں کے سالار جناب احمدمختارمحمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور اُن کی پاکیزہ آل پر۔
باطن کا ظاہر پر اثر پڑتا ہے:
جاننا چاہئے کہ ظاہری آداب باطنی آداب کے عنوانات ہیں اور ظاہری اعضاءکی حرکات دلی خیالات و تصوُّرات کے نتائج ہیں اور اعمال اخلاق کا نتیجہ ہیں۔ظاہری آداب معرفت کا چھینٹا ہوتے ہیں اور دلی راز ظاہری افعال کے بیج اور منبع ہوتے ہیں اور ان اسرار کے انوار ہی ہیں جو ظاہر پر چمکتے ہیں تو انہیں مُزَیَّن اور روشن کر دیتے ہیں اور اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے بدل دیتے ہیں اورجس شخص کے دل میں خوفِ خدا نہ ہو اس کے ظاہری اعضاء بھی خوفِ خدا سے خالی ہوتے ہیں اور جس شخص کا سینہ انوار ِرَبّانِیہ کا مَسْکَن نہ ہو اس کے ظاہر پر’’آدابِ نَبَوِیہ‘‘ کی چمک نہیں پڑتی۔
یہ باب لکھنے کی وجہ:
میں نے ارادہ کیا تھا کہ کتاب میں عادات کے بیان کو ایسے باب پر ختم کروں جو ’’آدابِ معیشت‘‘ کا جامع ہو تا کہ آداب جاننے کے خواہش مند پران تک رسائی مشکل نہ ہو پھر میں نے عبادات کے تمام ابواب کو دیکھا تو وہ سب کے سب آداب پر مشتمل تھے تو انہیں دوبارہ ذکر کرنا میں نے ناپسند جانا کیونکہ کسی شے کو دوبارہ ذکر کرنا گراں ہوتا ہے اور فطری طور پر طبیعتیں اس سے بے زاری کا اظہار کرتی ہیں،لہٰذا مناسب سمجھا کہ اس باب میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آداب و اخلاق جوسند کے ساتھ منقول ہیں ان کے بیان پر اکتفا کروں اور انہیں علیحدہ علیحدہ اور اَسناد حذف کر کے لکھوں تا کہ اس میں آداب کے ساتھ ساتھ حضور نبیّ کریم، رَ ء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ کریمہ کے مشاہدے سے ایمان کو تازگی اور پختگی ملے کیونکہ ان اخلاق کریمہ میں سے ایک ایک خُلْق قطعی طور پر اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مخلوق میں سب سے زیادہ عزت و کرامت والے، سب سے بلند مرتبہ اور سب سے بڑھ کر جلیل القدر ہیں تو پھر ان اخلاق کے مجموعے کا کیا عالَم ہو گا؟
پھر میں رحمتِ عالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاق کے ساتھ ساتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نورانی صورت اور وہ معجزات بیان کروں گاجو صحیح روایات سے ثابت ہیں تا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اخلاقی خوبیوں کا بیان کامل ہواورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت کے مُنکِرِین کے کانوں میں پڑی روئی باہر نکل جائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی اخلاق،احوال اورتمام دینی امور میں سردارِ انبیا و مُرسَلِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کی توفیق دینے والا ہے کیونکہ وہی حیران و پریشان لوگوں کو ہدایت دینے والا اور ہلاکت و مصیبت کے ماروں کی دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔
1 المعجم الاوسط ، ۳ / ۱۲۸، الحديث : ۴۰۷۹
تاريخ بغداد ، ۶ / ۳۷۴، الرقم : ۳۴۰۹ : اسحاق بن يعقوب ، عن جابربن عبدالله
2 المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندابی سعيدالخدری ، ۴ / ۳۹، الحديث : ۱۱۱۴۳
سنن ابن ماجه ، كتاب الفتن ، باب الامربالمعروف والنهی عن المنكر ، ۴ / ۳۶۴، ۳۶۳، الحديث : ۴۰۱۲، ۴۰۱۱
3 المعجم الكبير ، ۱ / ۸۴، الحديث : ۱۲۰، باختصار
4 المسندللامام احمدبن حنبل ، مسندعبدالله بن عمروبن العاص ، ۲ / ۶۷۹، الحديث : ۷۰۵۷
5 صحيح البخاری ، كتاب التفسير ، سورة المؤمن ، ۳ / ۳۱۶، الحديث : ۴۸۱۵
6 سنن ابی داود ، كتاب الادب ، باب مايقال عندالغصب ، ۴ / ۳۲۸، ۳۲۷، الحديث : ۴۷۸۴، بتغيرقليل
حلية الاولياء ، ابومسلم الخولانی ، ۲ / ۱۵۲، الحديث : ۱۷۷۶
7 الرياض النضرة فی مناقب العشرة لابی جعفرالطبری ، الجزء الاول ، ۱ / ۱۰۶، ۱۰۵
دلائل النبوة للبيهقی ، باب خروج النبی مع صاحبه ابی بكرالصديق الى الغار … الخ ، ۲ / ۴۷۷
صحيح البخاری ، كتاب الاحكام ، باب من استرعی رعية فلم ينصح ، ۴ / ۴۵۶، الحديث : ۷۱۵۰، بتغير
11 صحيح مسلم ، كتاب الايمان ، باب استحقاق الوالی الغاش لرعيته النار ، الحديث : ۱۴۲، ص۸۵، بتغيرقليل
شعب الايمان للبيهقی ، باب في طاعة اولى الامر ، ۶ / ۳۰، الحديث : ۷۴۱۱
12 شعب الايمان للبيهقی ، باب فی طاعة اولى الامر ، ۶ / ۳۰، الحديث : ۷۴۱۲، ۷۴۱۱
13 المستدرك ، كتاب الرقاق ، باب دعاالنبی اعرابياالى القصاص من نفسه ، ۵ / ۴۷۱، الحديث : ۸۰۱۳
شعب الايمان للبيهقی ، باب فی طاعة اولى الامر ، ۶ / ۳۰، الحديث : ۷۴۱۳
14 صحيح البخاری ، كتاب الجهادوالسير ، باب الحورالعين … الخ ، ۲ / ۲۵۲، الحديث : ۲۷۹۶
شعب الايمان للبيهقی ، باب فی طاعة اولى الامر ، ۶ / ۳۳، ۳۲، الحديث : ۷۴۱۷
حلية الاولياء ، ابوعمروالاوزاعی ، ۶ / ۱۴۷تا۱۵۱، الحديث : ۸۱۲۰
بدون : منصرفامن عرفة ، وإنما قالوا : رمى الجمرة
آدابِ معیشت کے 13ابواب کی ترتیب:
(۱)… اللہعَزَّوَجَلَّ کاحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوبذریعہ قرآنِ کریم ادب سکھانے کا بیان۔ (۲)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جامع اخلاقِ حسنہ کا بیان۔(۳)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عمومی اخلاق و آداب کا بیان۔(۴)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شیریں گفتگواورمسکرانے کا بیان۔ (۵)…کھانےکی سنتوں اور آداب کا بیان۔(۶)…لباس کی سنتوں اور آداب کا بیان۔(۷)…رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عفو ودرگزر کا بیان۔(۸)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاناپسندیدہ باتوں سے چشم پوشی کابیان۔(۹)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جودوسخاکابیان۔(۱۰)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شجاعت کا بیان۔(۱۱)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تواضع اورعاجزی کا بیان۔(۱۲)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُلیہ شریف(شکل و صورت) کابیان۔(۱۳)…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جامع معجزات اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سچے ہونے کی نشانیوں کا بیان۔
باب نمبر1: اللہ عَزَّوَجَلَّ کاحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بذریعہقرآنِ کریم ادب سکھانے کا بیان
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بارگاہ الٰہی میں بہت عجز و انکساری فرمایا کرتے تھے اورہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کیا کرتے تھے کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اچھے آداب اور اخلاقی خوبیوں سے مُزَیَّن فرمائے۔چنانچہ،مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا کیا کرتے تھے: ’’ اَللّٰھُمَّ!حَسِّنْ خَلْقِیْ وَ خُلُقِیْ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میری صورت اور سیرت کو اچھا کر دے۔“(1 )
اوریہ دعاکیا کرتے تھے:’’ اَللّٰھُمَّ!جَنِّبْنِیْ مُنْکَرَاتِ الْاَخْلَاقِ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے برے اخلاق سے بچائے رکھ۔“ (2 )
پس اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا قبول فرمائی جیسا کہ اس کا وعدہ ہے:
ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- ( پ ۲۴، المؤمن :۶۰) ترجمۂ کنز الایمان :مجھ سے دعاکرومیں قبول کروں گا۔
چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قرآنِ کریم نازل فرمایا اور اس کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ادب سکھایا ۔اسی لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خُلق کو قرآن کہا گیا۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا خُلق قرآن ہے:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوااور اُن سے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا توانہوں نےفرمایا:کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کی:کیوں نہیں، پڑھتا ہوں۔فرمایا: کَانَ خُلْقُ رَسُوْلِ اللہِ الْقَرْاٰن یعنی حُسنِ اَخلاق کے پیکر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خلق قرآن ہے۔ (3 )
تعلیم آداب پر مشتمل 10فرامین باری تعالیٰ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآن کریم کی درج ذیل آیاتِ مُقَدَّسہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ادب و اخلاق کی تعلیم فرمائی ہے:
(1)… خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) ( پ ۹، الاعراف :۱۹۹)
Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21
This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.