Skip to content
Book 17 · Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn
Book 17 · اردو

آداب سَفَر کابیان

This translation is its translator’s, not Sabīl’s. It is shown as its source gives it, as a text of its own under each book with the translator’s own headings: it does not stand line for line beside the Arabic, and it keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has not checked it against the Arabic, and no scholar has reviewed it.

Translated by Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںRead from dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)taken 2026-10-22

What the source says of it: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے پیاروں کی بصیرت کو حکمتوں اور عبرتوں کے ساتھ کھول دیا(یعنی مضبوطی عطا فرمائی)اوران کے ارادوں کو سفروحضر میں اپنی صنعت کے عجائبات کے مشاہدوں کے لئے خالص کر دیا۔ پس وہ اپنے دلوں کو ظاہری خوبصورتی سے پھیرتے ہوئے تقدیر کے راستوں پر راضی ہو گئے اور جو عجائبات حد نگاہ اور فکر میں آتے ہیں ان کی طرف دیکھنا محض عبرت کے لئے ہے تو ان کے نزدیک خشکی، سمندر، نرم و سخت زمین، شہر اور دیہات سب برابر ہو گئے۔دروداور خوب سلام ہو تمام انسانوں کے سردار حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے،احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور اخلاق و سیرت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنے والے آل و اصحاب پر۔

بے شک سفراُن چیزوں سے بچنے کا وسیلہ ہے جن سے دور بھاگا جاتا ہے یااُن کاموں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو قابلِ رغبت اور مطلوب ہیں۔

سفر کی اقسام:

سفر کی دو قسمیں ہیں:(۱)…ظاہری بدن کے ساتھ اپنے وطن سے صحرا اور جنگلات کی طرف سفر کرنا (۲)…باطنی سفر کہ دل عالَم سِفْلی(دنیا) سے عالَم عُلْوی(آخرت) کی سیر کرے۔

سب سے اچھا سفر:

دونوں میں سے سب سے اشرف و اعلیٰ باطنی سفر ہے کیونکہ پیدائش کے بعد جس کی جوحالت تھی اگر وہ اسی حالت پرٹھہرا رہے اور آباء واجداد کی پیروی سے جو حاصل کیا اسی پر جما رہے تو وہ درجۂ قصور(کم مرتبہ)کو لازم کرنے اور ناقص درجے پر قناعت کرنے والا ہے اور اس نے وسیع و کشادہ جنت کہ جس کی چوڑان میں سب زمین وآسمان آجائیں اس کے بدلے میں قیدخانے کی تاریکی اوراسیری کو اختیار کیا ہے ۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہاہے:

وَ لَمْ اَرَ فِیْ عُیُوْبِ النَّاسِ عَیْبًا کَنَـقْصِ الْقَادِرِیْنَ عَلَی التَّمَام

ترجمہ:میں نے لوگوں کے عیوب میں سے کسی عیب کو اس عیب کی طرح نہیں دیکھا کہ آدمی تکمیل پر قادر ہونے کے باوجود نقصان اور ناتمامیت پر راضی رہے۔

لیکن اس سفرپر گامزن شخص کو چونکہ بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا کسی راہبرو راہنما کا ہونا ضروری ہے۔ جب راستہ پیچیدہ اورراہبرو راہنما مفقودہوئےتو سالکین نے وافر حصہ لینے کی بجائے کم پر ہی قناعت کر لی نتیجتاً راستے مٹ گئے، نہ کوئی ہم سفروراہنما رہا اورنہ ہی آفاق و ملکوت میں سیر کرنے والا کوئی نفس حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسی راستے کی طرف دعوت دی ہے۔ چنانچہ،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ ( پ ۲۵، حٰم السجدة :۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان :ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیابھر میں اور خود ان کے آپے میں۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا:

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ(۲۰)وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(۲۱)

( پ ۲۶، الذٰريٰت :۲۱،۲۰) ترجمۂ کنز الایمان :اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔

اور اس سفر سے بیٹھ رہنے والوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ناپسند فرمایاہے۔چنانچہ، ارشادہوتا ہے:

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ(۱۳۷)وَ بِالَّیْلِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠(۱۳۸) ( پ ۲۳، الصٰفٰت :۱۳۸،۱۳۷)

ترجمۂ کنز الایمان :اور بے شک تم ان پر گزرتے ہو صبح کو اور رات میں تو کیا تمہیں عقل نہیں۔

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(۱۰۵) ( پ ۱۳، يوسف :۱۰۵)

ترجمۂ کنز الایمان :اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں۔

تو جس کے لئےیہ سفر آسان ہو گیا وہ ہمیشہ جنت کی سیر میں رہتاہے جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین آجائیں حالانکہ اس کا ظاہری جسم ساکن اور وطن میں ہی موجود رہتا ہےاور یہی وہ سفر ہے جس میں گھاٹ اور چشموں میں تنگی کا خطرہ نہیں ہوتااور نہ ازدحام(مجمع)اور رش کی وجہ سے کوئی تکلیف ہوتی ہے بلکہ مسافروں کی کثرت کی وجہ سے اس کے ثمرات اور فوائد میں زیادتی ہوتی ہے۔اس کی غنیمتیں دائمی اور غیر ممنوعہ ہیں اور ثمرات زیادہ اور نہ ختم ہونے والے ہیں مگر یہ کہ جب اس طرح کے سفر میں کسی مسافر پر سستی طاری ہو یا اس کی حرکت میں وقفہ آجائے توبے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں اور جب وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر راہ سے پھرجاتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے دلوں کو پھیر دیتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر ظلم نہیں فرماتالیکن لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔جو شخص اس میدان میں نہیں اترتا اور اس طرح کے باغات کی سیر نہیں کرتا تو بسا اوقات وہ اپنے ظاہری بدن کے ساتھ ایک لمبی مدت تک چند میل چلنے کو خواہ دنیاوی تجارت کے لئے ہویا آخرت کے کے لئے، غنیمت سمجھتا ہے ۔اب اگر اس شخص کا مقصد علم اور دین کو حاصل کرناہو یادین کے معاملات پر مدد حاصل کرنا ہو تو وہ بھی آخرت کے راستے پر چلنے والا ہے اور اس کے اس سفر میں کچھ شرائط وآداب ہیں، اگر وہ انہیں ترک کرے گاتو اس کا شمار دنیا حاصل کرنے والوں اور شیطان کے پیروکاروں میں ہو گا اور اگر ان شرائط وآداب پر مواظبت(ہمیشگی)اختیار کرے گا تو اس کا سفر ان تمام فوائد سے خالی نہیں ہوگا جو راہِ آخرت کے مسافر کو ملتے ہیں۔چنانچہ،ہم سفر کے آداب اور اس کی شرائط دو ابواب میں بیان کریں گے:

(۱)…پہلے باب میں سفرشروع کرنے سے لے کر واپسی تک کے آداب،سفر کی نیت اور اس کے فوائدکا بیان ہے، یہ دوفصلوں پر مشتمل ہے۔(۲)… دوسرے باب میں مسافر کے لئے جن امور کا جاننا ضروری ہے ان کا بیان،قبلہ رخ اور اوقات معلوم کرنے کے طریقہ کا بیان ہے،یہ بھی دوفصلوں پرمشتمل ہے۔

الزهدلابن المبارک ، باب فضل ذکرالله ، الحديث : ۱۱۷۸، ص۴۱۵

الزهدالکبيرللبيهقی ، فصل فی ترک الدنياومخالفة النفس والهوی ، الحديث : ۳۷۳، ص۱۶۵

باب نمبر1: سفر شروع کرنے سے لے کر واپسی تک کے آداب،سفر کی نیت اور اس کے فوائد کا بیان

(یہ دو فصلوں پر مشتمل ہے)

پہلی فصل: سفر کی فضیلت و فوائد اور نیت کا بیان

جان لو بے شک سفر ایک قسم کی حرکت اور میل جول کا نام ہے۔اس میں فوائد بھی ہیں اور آفات بھی جیسا کہ ہم’’ کتابُ الصُّحْبَۃ وَ الْعُزْلَۃ ‘‘(دوستی و گوشہ نشینی کے بیان) میں ذکرکر چکے ہیں۔سفر پر ابھارنے والے فوائد دوحال سے خالی نہیں ہوتے:(۱)…یا توکسی چیز سے بھاگنا(بچنا)مقصود ہوگا(۲)…یا کسی چیز کی طلب مقصود ہوگی۔

کیونکہ مسافر دو حال سے خالی نہیں ہوتا:(۱)…یاتومسافر کوسفر پر کوئی چیز ابھارتی ہے کہ اگر وہ چیز نہ ہوتی توجس طرف سفر کا ارادہ ہے اس سمت جانا بے مقصد ہوتا(۲)…یا کسی مقصدکے حصول اورکسی چیز کی طلب میں سفر کرتا ہے۔

مسافر جس چیز سے بھاگتا(بچتا) ہے وہ بھی دو حال سے خالی نہیں ہوتی:(۱)…یاتو اس کی تاثیردنیاوی اعتبار سے ہو گی جیسے طاعون اور کوئی وبا(بیماری) وغیرہ جب کسی شہر میں ظاہر ہو یا کسی فتنے یاجھگڑے یامہنگائی کا خوف ہو۔یہ بھی دو حال سے خالی نہیں:٭…یاتو یہ اسباب عام ہوں گے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا… ٭…یاخاص ہوں گے جیسا کہ کسی شہر میں خاص شخص کو تکلیف پہنچانا مقصود ہو جس کی وجہ سے وہ اس شہر سے کوچ کر جاتا ہے۔

(۲)…(مسافر جس چیز سے بھاگتا ہے اس کی دوسری صورت یہ ہے)یااس کی تاثیردینی اعتبار سے ہوگی جیسے کوئی شخص اپنے شہر میں جاہ ومال کی وجہ سے آزمایش میں مبتلا ہو گیایا ایسے اسباب کی کثرت ہوگئی جوذکرالٰہی کے لئے خالی(فارغ)ہونے سے مانع ہیں تو ایسی صورت میں اسے مال کی وسعت اور جاہ ومرتبے سے بچنے کے لئے دوسری جگہ جانے کو ترجیح دینی چاہئے،یا اسے جبراًبدعت کی طرف بلایا جا رہا ہو یا ایسا کام سونپا جا رہا ہو جسے کرنا جائز نہیں تواسے وہاں سے بھاگ جانا چاہئے۔

جہاں تک کسی مطلوب کے حصول کے لئے سفر کرنے کا تعلق ہے تو وہ مطلوب یا تو دنیاوی ہو گا جیسے مال و جاہ یا دینی ہو گا، اگر دینی ہو گا تو پھر ا س کاتعلق یا تو علم سے ہوگا یا عمل سےاور علم یا تو علوم دینیہ میں سے ہو گا یا ایسا علم ہو گا جس کا تعلق ا س کی ذات و صفات سے ہوگا جو تجربات سے حاصل ہو تا ہے یا ایسا علم ہو گاجس کا تعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں اور عجائبات سے ہو گا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ذوالقرنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (1 )کاسفر کہ انہوں نے پوری دنیا کا چکر لگایا۔

اور جہاں تک عمل کا تعلق ہے یاتو وہ عبادت کے قبیل سے ہوگا یازیارت کے۔عبادت جیسے حج وعمرہ کرنا ،جہاد کرنا۔زیارت کرنا بھی عبادت میں سے ہے کہ اس کی وجہ سے مقاماتِ مقدسہ کا قصد کیا جاتا ہے جیسے مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس وغیرہ(کی زیارت کےلئے)اوراسلامی ملک کی سرحد کی طرف سفرکرنا کیونکہ سلطنتِ اسلامی کی سرحدوں کی حفاظت کرنا بھی عبادت ہے اور کبھی سفر سے مقصود اولیائے کرام اور علمائے عظام کی زیارت ہوتی ہے،اگر وصال فرماچکے ہوں تو ان کے مزارات کی زیارت کی جاتی ہےاور اگر حیات ہوں تو انہیں دیکھ کر برکت حاصل کی جاتی اور ان کے حالات دیکھ کر ان کی اقتدا(پیروی) کرنے کی رغبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ سفر کی وہ اقسام ہیں جن سے چار اقسام اور نکلتی ہیں:

(1)…طلب عِلم کے لئے سَفَرکرنا:

یہ سفر دو حال سے خالی نہیں:(۱)…یاتو واجب ہوگا(۲)…یانفل۔سفر کا واجب یا نفل ہونا علم کے واجب یا نفل ہونے کے اعتبار سے ہو گا۔اس کی پھر تین قسمیں ہیں:٭…یا تو اس کا تعلق امورِ دینیہ کے ساتھ ہوگا،٭…یا بندے کے اپنے اخلاق کے ساتھ،٭…یا زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں کے ساتھ۔

٭…اُمورِ دینیہ کے متعلق علم:

مُعَلِّم کائنات،شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہٖ فِیْ طَلْبِ الْعِلْمِ فَہُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ حَتّٰی یَرْجِعَ یعنی جو اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لئے نکلا وہ وا پسی تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہے۔‘‘ (2 )

ایک روایت میں ہے:’’ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَّلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَہَّلَ اللہُ لَہُ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃ یعنی جوعلم کی طلب میں کوئی راستہ طے کرے تو اس کی برکت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جنت کا راستہ آسان کردے گا(3 )۔‘ (4 )

40 of 538
The Arabic text
كتاب آداب السفر وهو الكتاب السابع من ربع العادات من كتب إحياء علوم الدين

Text fromOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472taken 2026-10-21

This is the Arabic text of al-Ghazālī’s Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn as the OpenITI corpus has it, from Shamela’s copy of the Dār al-Maʿrifa edition. Nobody has compared it with the printed book or a manuscript, and no scholar has reviewed it. The corpus says that in some pages a part of the text is missing and that the editor’s footnotes are mixed with the text; both are shown as they stand. The pages of the printed edition are marked where they end. The translations are their translators’, each read from the copy named with it and shown as a text of its own under each book, with its own headings: none is set line for line against the Arabic, Karim’s English abridges the book as its translator says, and each keeps the faults of the copy it was read from. Sabīl has translated nothing, has not checked any translation against the Arabic, and no scholar has reviewed one.