انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · الأنعام
السورة ٦

الأنعام

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ٦٣–٦٤

قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَـٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ تَدْعُونَهُۥ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَىٰنَا مِنْ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ٦٣ قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ ٦٤

کہہ دیجیے! کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور تری کے اندھیروں سے ؟ پکارتے ہو تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے، (کہتے ہو) اگر وہ نجات دے دے ہمیں اس سے تو ضرور ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں سے (63)کہہ دیجیے! اللہ ہی نجات دیتا ہے تمھیں اس سے اور ہر غم سے ، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (64)

[63]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ﴿ مَنۡ يُّؔنَؔجِّيۡكُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰؔتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’کون تمھیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے‘‘ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمھیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لیے پکارتے رہے ہو۔ اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجٰؔىنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ ﴾ ’’اگر اس نے ہمیں بچا لیا اس سے‘‘ یعنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے‘‘ یعنی اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔

[64]﴿قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تمھیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے‘‘ ﴿ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟