انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · ص
السورة ٣٨

ص

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآية ١٦

وَقَالُوا۟ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ ٱلْحِسَابِ ١٦

اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17)

[16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔

[17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔