انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · النحل
السورة ١٦

النحل

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ١١٠–١١١

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ مِنۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوا۟ ثُمَّ جَـٰهَدُوا۟ وَصَبَرُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ١١٠ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍ تُجَـٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ١١١

پھر بلاشبہ آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ آزمائے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، بے شک آپ کا رب بعد اس کے ، البتہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (110)(یاد کرو!) جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑتا ہوا اپنی بابت اور پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہرنفس کو اس کا جو اس نے عمل کیااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (111)

[110] یعنی پھر بلاشبہ آپ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی، اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے، دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے، پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکثر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں ۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کر دیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔ پس قیامت کے روز ان کے لیے رحمت ہے۔

[111]﴿ يَوۡمَ تَاۡتِيۡ كُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِهَا ﴾ ’’جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے‘‘ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ ﴾ ’’اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا‘‘ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یٰسٓ:36؍54) ’’آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔‘‘