انتقل إلى المحتوى
Tafsir As-Saadi - Urdu · قريش
السورة ١٠٦

قريش

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآيات ١–٤

لِإِيلَـٰفِ قُرَيْشٍ ١ إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ ٢ فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلْبَيْتِ ٣ ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ ٤

بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔