انتقل إلى المحتوى
Tafsir Ibn Kathir · الرعد
السورة ١٣

الرعد

هذا تفسير بلغة غير العربية كما هو في Quranic Universal Library (واختصارها QUL، من Tarteel)، مأخوذًا من النسخة المفتوحة لبيانات QUL التي يحتفظ بها spa5k/tafsir_api. لا يذكر سجلّ QUL من كتبه أو ترجمه ولا أي طبعة مطبوعة يتبعها، ولا يذكر ترخيصًا للنص، ولذلك لم يُتحقق من حق عرضه. لم يقارنه أحد بكتاب مطبوع، ولم يراجعه أحد من العلماء. يقف كل مقطع بجانب الآيات التي يعلّق عليها، وهي نص القرآن من Tanzil كما هو عنده. لم يكتب سبيل شيئًا منه ولم يترجمه.

النص منQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITأُخذ في 2026-10-21

الآية ٥

وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَـٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٥

عقل کے اندھے ضدی لوگ ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دیتا ہے “۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔

جیسے فرمان ربانی ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” جس نے آسمان و زمین بغیر تھکے پیدا کر دیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے “۔

پس یہاں فرماتا ہے کہ ” اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے “۔

صفحہ نمبر4119