موت اور اس کے بعد کا بیان
هذه الترجمة لمترجمها لا لـ«سبيل». تُعرض كما يقدّمها مصدرها، نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوين المترجم نفسه: فهي لا تقابل العربية سطرًا بسطر، وتحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تقابلها «سبيل» بالعربية، ولم يراجعها أي عالم.
ترجمة: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںأُخذت من dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)أُخذ في 2026-10-22
ما يقوله المصدر عنها: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس نے موت کےذریعے متکبرین کی گردنوں کو توڑا اور بادشاہوں کی شان وشوکت اور امیدوں کو خاک میں ملایا، یہ وہ لوگ تھے جن کے دل موت کے ذکر سے ہمیشہ بھاگتے رہے یہاں تک کہ موت کا سچاپروانہ آیاجس نے انہیں قبر کے گڑھے میں پھینک دیا، پس وہ محلات سے قبروں کی طرف پھیر دیے گئےاورپُررونق کمروں سے اٹھاکر اندھیرے گڑھوں میں ڈال دیے گئے،کنیزوں اور غلاموں کے جھرمٹ سے نکال کر کیڑوں مکوڑوں کے سامنےپھینک دیے گئے،خاندانی گہماگہمی سے دھکیل کر تنہائی کی وحشتوں کا شکار کردیے گئے اورنرم بستروں سے اٹھاکر ہلاکت خیز اکھاڑوں میں پھینک دیے گئے۔غور کرو!کیا یہ لوگ مضبوط قلعوں اور طاقت کے بَل بوتے پر موت سے بچ سکے؟کیا اس سے بچنے کے لئے کوئی پردہ یا آڑ بناسکے؟غورکرو! کیاتم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا کسی کی آہٹ سنائی دیتی ہے؟پاک ہے وہ ذات جو غلبہ اور بلندی میں یکتا ہے، وہی ذات ہمیشہ رہنےکا حق رکھتی ہے،اسی نے ہر قسم کی مخلوق کے لئے فنا کا حکم لکھ کر اسے حقیر کیاپھر موت کو پرہیزگاروں کے لئے چھٹکارا بنایا اور اپنی ملاقات کا وعدہ ٹھہرایا جبکہ قبر کو بدبختوں کے لئے فیصلے اور حکم کے دن تک تنگ وتاریک قید خانہ بنادیا کیونکہ اسی کی جانب سے ایک سے بڑھ کر ایک نعمت ہے توسخت سے سخت پکڑ بھی ہے، زمین وآسمانوں میں اسی کا شکر ہے اوردنیا وآخرت میں ثنابھی اسی کی ہے۔بے شمار درودوسلام ہو ہمارے پیارے آقامحمدِعَرَبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جوکہ روشن نشانیوں اور نمایاں معجزات والے ہیں اور آپ کی آل واصحاب پر بھی خوب دردووسلام ہو۔
موت جس کا اکھاڑاہو،مٹی جس کا بچھونا ہو،کیڑے جس کےساتھی ہوں،منکرونکیر جس کے ہم نشین ہوں نیز قبر جس کا ٹھکانا ہو،زمین کا گڑھا جس کا مَسْکَن ہو،قیامت جس کےوعدےکی جگہ ہواورجنت یا دوزخ جس کا مقام ہواسےصرف موت کی فکر کرنی چاہیے، اسی کی یاد ہو، اسی کی تیاری ہو، اسی کےلئے کوششیں ہوں، اسی کی اُمنگ ہواوراسی کی جانب مائل ہونیزاسی کو اہمیت دے، اسی کی طرف بڑھے، اسی کا انتظار کرے بلکہ مناسب یہی ہےکہ اپنےآپ کومردہ اور قبر والوں میں شمار کرے کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے اور نہ آنے والی بعید ہوتی ہے۔ فرمانِ مصطفٰے ہے : ”عقل مندہےوہ شخص جو اپنے نفس کوفرمانبردار بنائے اور موت کےبعد کام آنے والے عمل کرے ۔“(7 )
کسی بھی چیزکی تیاری اس وقت آسان ہوجاتی ہےجبکہ دل میں باربار اس کا خیال آتا رہے اورباربار خیال اسی وقت آتاہےجبکہ یاد دلانے والی چیزوں کو یاد رکھا جائے اور احساس دلانے والی چیزوں کی جانب توجہ رہے۔ ہماری گفتگوکا موضوع موت اور اس سے متعلق باتیں،آخرت و قیامت اور جنت و دوزخ کے معاملات ہیں نیز وہ باتیں ہیں جن کی بار بار یاد دہانی بندے کے لئے ضروری ہے اور جن میں سوچ بچار کرنا قبر وآخرت کی تیاری کا جذبہ بیدار کرتاہےکیونکہ موت کے بعد کا سفر قریب آچکاہےحالانکہ زندگی بہت کم باقی ہے اور مخلوق اس سے غافل ہے۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) ( پ ۱۷، الانبیآء : ۱)
ترجمۂ کنز الایمان : لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں۔
ہم موت سے متعلق گفتگو کو دو حصوں میں ذکر کریں گے۔
پہلا حصہ : موت کے پہلے سے صور پھونکنے تک کا بیان
اس حصہ میں موت سے پہلے سے لے کر صور پھونکے جانے تک کی باتیں ہوں گی جنہیں آٹھ ابواب میں بیان کیا جائے گا : (۱)…موت کویاد کرنےکی فضیلت اور اس میں رغبت کے بارے میں (۲)…لمبی اور چھوٹی امیدوں کے بارے میں۔ (۳)…موت کی شدت وسختی اور اس وقت کے مستحب معاملات کے بارے میں (۴)…پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور خلفائے راشدین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے آخری لمحات کے بارے میں (۵)…خلفا،اُمرا اور نیکو کاروں کے آخری کلمات کے بارے میں (۶)…جنازوں اور قبرستانوں سے متعلق اولیاءاللہ کے اقوال اور قبروں کی زیارت کے بارے میں (۷)…موت کی حقیقت اور مُردے کو قبر میں رکھنے سے صور پھونکے جانے تک کے معاملات کے بارے میں اور (۸)…خواب میں مُردوں کے دکھائے جانے والے حالات وواقعات کے بارے میں ہے۔
1 المغنی عن حمل الاسفار ، کتاب المحبة والشوق والرضا ، ۲ / ۱۱۵۱، حدیث :۴۱۶۸، شاملة ، لم یوجدلہ اصل
2 صحیح ابن حبان ، کتاب الرقائق ، باب التوبة ، ۲ / ۸، حدیث :۶۱۹، بتغیرقلیل
3 المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص ، ۲ / ۶۵۶، حدیث :۶۹۵۱
المعجم الکبیر ، ۸ / ۱۶۸، حدیث :۷۷۰۵
4 سنن الترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ومن سورة الحدید ، ۵ / ۱۹۴، حدیث :۳۳۰۹
5 اسلامی مسئلہ یہ ہے کہ زمین وآسمان دونوں ساکن ہیں کواکب چل رہے ہیں۔(فتاوی رضویہ(مخرجہ)، ۲۷ / ۲۰۰ )
6 یہ سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کا موقف ہے۔ جمہور علما اس طرف گئے ہیں کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رب تعالیٰ کی سب سےزیادہ معرفت رکھتے ہیں۔چنانچہ عارف باللہ علامہ عبدُالغنی نابُلُسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ” اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ الطَّرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ “ میں فرماتے ہیں:” رسولِ اكرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوقات سے بڑھ کر رب تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں۔“(ا لحديقة الندیة ، الباب الاول ، الفصل الثالث ، ۱ / ۱۹۵، مکتبہ فاروقیہ پشاور )
حتّٰی کہ علامہ اسماعیل حقّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ”تفسیر روح البیان“میں فرماتے ہیں:” وَقَدْ اِنْعَقَدَ الْاِجْمَاعُ عَلٰی اَنَّ نَبِیَّـنَا عَلَیْہِ السَّلَامْ اَعْلَمُ الْخَلْقِ وَاَفْضَلُھُمْ عَلَی الْاِطْلَاقْ یعنی اس بات پر اجماع منعقد ہوچکا ہے کہ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوق سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور تمام مخلوق سے افضل ہیں علی الاطلاق۔“( تفسیر روح البیان ، ۵ / ۲۷۴)
سيِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ ، صفحہ72 پر امام ابن حجر مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتے ہیں: ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضور کو سارے جہاں کا علم دیا تو حضور نے تمام اگلوں پچھلوں کا علم اور جو کچھ ہو گزرا ہے اور ہونےوالا سب جان لیا۔“ صفحہ73پر شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتے ہیں:” نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام اشیاء کو جانتے ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کام اور احکام اور صفات اور اسماء اور افعال اور آثار تمام علوم ظاہر وباطن واوّل وآخر کا احاطہ فرمالیا اور حضور اس آیت کے مصداق ہوئے کہ ہر علم والے سے اوپر علم والا ہے۔“
7 سنن الترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب رقم ۲۵، ۴ / ۲۰۸، حدیث :۲۴۶۷
باب نمبر1 : موت كو یاد کرنےکی فضیلت اور اس میں رغبت کابیان
(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل : موت کو کثرت سے یاد کرنا اور اس پر ابھارنا
یادرکھو!جوشخص دنیا میں یوں مگن ہوکہ اس کے دھوکے کی جانب مائل اور اس کی خواہشات کی جانب رغبت رکھے تویقیناً اس کا دل موت سے غافل ہے اوراسے یاد نہیں کرتااور اگر اسے یاد کروایا بھی جائے تو اس سے نفرت کرتاہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے : قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۸) ( پ ۲۸، الجمعة : ۸)
ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہےپھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہےپھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم نے کیا تھا۔
لوگوں کی تین اقسام :
اس دنیا میں تین طرح کے لوگ پائے جاتےہیں : (۱) دنیا میں مگن رہنے والے (۲)توبہ کرنے والے اور (۳)موت کے انجام کو پہچاننے والے۔
دنیا میں مگَن رہنے والا :
یہ شخص موت کو یاد نہیں کرتااور اگر یاد بھی کرے تواس کی وجہ دنیاچھوٹ جانے کاغم ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ موت کی مذمت میں مشغول ہو جاتا ہے اور اس طرح موت کو یاد کرنا اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مزید دور کردیتا ہے۔
توبہ کرنے والا :
یہ شخص موت کو کثرت سے یاد کرتاہےتاکہ دل میں خوفِ خداپیداہواور یوں اسے سچی توبہ نصیب ہوجائے۔ بعض اوقات توبہ کرنے والاموت کواس خوف کی وجہ سے ناپسندکرتاہے کہ کہیں سچی توبہ سے پہلے یا سامانِ آخرت کی تیاری سے پہلےموت نہ آجائے۔ یہ قابلِ گرفت نہیں اور نہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان میں داخل ہے کہ’’جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کوناپسند کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘(1 )کیونکہ حقیقت میں یہ ملاقاتِ الٰہی اور موت کو ناپسند نہیں کرتا بلکہ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےملاقات نہ ہونےسے ڈرتا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دوست سے ملنے میں اس لئے تاخیر کرتا ہے کہ دوست کو خوش کرنے والی ملاقات کی تیاری میں مشغول ہے لہٰذا ایسے شخص کاشمار ملاقات کوناپسند کرنے والوں میں نہ ہوگااور اس کی نشانی یہ ہےکہ یہ شخص ہمیشہ ملاقات کی تیاری میں لگا رہے اس کے سواکوئی مصروفیت نہ رکھے ورنہ دنیامیں مگن رہنے والوں میں شامل ہوجائے گا۔
موت کے انجام کو پہچاننے والا :
یہ شخص موت کو ہمیشہ یاد رکھتاہےکیونکہ موت اپنے محبوب ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کا وعدہ ہےاور محبت کرنے والامحبوب سے ملنے کا وعدہ کبھی نہیں بھولتااور عام طور پر یہی ہوتاہےکہ موت دیر سے آتی ہے لہٰذا یہ شخص موت کی آمد کوپسند کرتاہے تاکہ نافرمانی کے اس گھر سے جان چھوٹے اور قُربِ الٰہی کےمرتبہ پر فائز ہوسکے۔
موت کو محبوب رکھنا :
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی وفات کے وقت فرمایا : دوست فقر کی حالت میں آیا ہے، جو پشیمان ہوتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !تجھے معلوم ہےکہ میں نے مالداری سے زیادہ غربت کو،صحت سےزیادہ بیماری کواور زندگی سے زیادہ موت کومحبوب رکھا لہٰذا تو مجھ پر موت آسان کردے تاکہ تجھ سے ملاقات کرسکوں۔
محبَّتِ الٰہی کا انتہائی درجہ :
جس طرح توبہ کرنے والاموت کو ناپسند کرنے میں قابلِ گرفت نہیں اسی طرح موت کے انجام کو پہچان لینے والا بھی موت کو محبوب رکھنےاور اس کی تمنا کرنےمیں قابلِ گرفت نہیں ہےالبتہ ان دونوں میں بلند رتبہ اس شخص کا ہے جو اپنا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یوں سپرد کر دے کہ اپنے لئے موت پسند کرے نہ زندگی بلکہ سب سےزیادہ محبوب وہی چیزرکھے جو اس کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہو اور یہ مرتبہ اس وقت ملتاہے جب انتہائی محبت کے ذریعےوہ تسلیم و رضاکے مقام تک پہنچ جائے اور یہی انتہائی درجہ ہے۔
ہر حال میں موت کو یاد کرنے میں ثواب اور فضیلت ہےاور یہ ثواب اور فضیلت دنیا میں مگن شخص بھی موت کو یاد کرکے پاسکتاہےاس طرح کہ دنیا سے اَلگ تھلگ رہےتاکہ دنیاوی نعمتوں میں دلچسپی نہ رہے اور لذتیں بد مزہ ہوجائیں کیونکہ ہر وہ لذت و خواہش جوانسان کے لئے بد مزہ ہووہ اسبابِ نجات میں سے ہے۔
1 مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبة ، باب من احب لقاء اللّٰہ الخ ، ص ۱۴۴۲، حدیث :۲۶۸۵
دوسری فصل:ہر حال میں موت کویاد کرناافضل ہے
موت سے متعلق 12فرامین مصطفٰے :
(1)… اَکْثِرُوْامِنْ ذِکْرِھَاذِمِ اللَّذَّات یعنی لذّتوں کو ختم کرنے والی کو زیادہ یاد کرو۔(1 )
النص منOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472أُخذ في 2026-10-21
هذا هو نص كتاب «إحياء علوم الدين» للغزالي بالعربية كما ورد في مدوّنة OpenITI، عن نسخة المكتبة الشاملة من طبعة دار المعرفة. لم يقابله أحد بالكتاب المطبوع ولا بمخطوط، ولم يراجعه أي عالم. وتذكر المدوّنة أن جزءًا من النص ناقص في بعض الصفحات وأن حواشي المحقق مختلطة بالنص؛ وكلاهما معروض كما هو. وقد وُضعت علامة عند نهاية كل صفحة من الطبعة المطبوعة. أما الترجمات فهي لمترجميها، أُخذت كلٌّ منها من النسخة المسمّاة معها وتُعرض نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوينها هي: لا تُقابَل أيٌّ منها سطرًا بسطر مع العربية، والإنجليزية لكريم مختصرة كما يقول مترجمها، وكلٌّ منها تحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تترجم «سبيل» شيئًا، ولم تقابل أي ترجمة بالعربية، ولم يراجع أيَّ ترجمةٍ عالمٌ.