انتقل إلى المحتوى
الكتاب ٣٠ · إحياء علوم الدين
الكتاب ٣٠ · اردو

دھوکے کی مَذَمَّت کا بیان

هذه الترجمة لمترجمها لا لـ«سبيل». تُعرض كما يقدّمها مصدرها، نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوين المترجم نفسه: فهي لا تقابل العربية سطرًا بسطر، وتحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تقابلها «سبيل» بالعربية، ولم يراجعها أي عالم.

ترجمة: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںأُخذت من dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)أُخذ في 2026-10-22

ما يقوله المصدر عنها: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

(اس میں ایک مُقَدّمہ اور تین ابواب ہیں)

مُقَدّمہ:

تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں،تمام مُعامَلات کی چابیاں اور اچھے بُرے کاموں کی کُنْجیاں اسی کے دَسْتِ قُدرت میں ہیں،وہ اپنے اولیا(دوستوں) کو اندھیریوں سے اُجالےکی طرف نکالنے والا اور دشمنوں کو دھوکے کےگہرے گڑھے میں ڈالنے والاہےاورہر لمحہ ہر گھڑی درود ہوحضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جو مخلوق کو تاریکیوں سے نکالنے والے ہیں اور ان کی آل واصحاب پر بھی دُرُود ہو جنہیں دنیا کی زندگی کسی قسم کے دھوکے میں نہ ڈال سکی اور نہ ہی وہ ذاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں کسی قسم کے فریب کا شکار ہوئے ۔

سعادت مَنْدی کی کنجی بیداری اورہُشْیاری ہےجبکہ بد بختی کاسَرچشمہ دھوکا اور غفلت ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنےبندوں پر سب سے بڑی نعمت ایمان اورمَعْرِفَت ہے(کہ اسی معرفت کے ذریعے ایمان کامل ہوتا ہے)اور اس تک پہنچنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ باطنی نور سے سینہ کُشادہ ہوجائے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک کفر و گناہ سے بڑھ کرکوئی ناپسندیدہ بات نہیں اور اس طرف وہی دل رغبت کرتاہے جوجَہالت کے اندھیرے میں اندھا ہوچکاہوجبکہ عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے والوں کےدل اس فرمانِ باری تعالیٰ کےمطابق ہوتے ہیں:

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ-اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍۙ-یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌؕ-نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍؕ (پ۱۸،النور:۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان : اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب(مشرق) کا نہ پَچِھم(مغرب) کاقریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھےاگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے ۔

اور جن لوگوں کے دل دھو کے میں ہیں ان کی مثال یوں ہے:

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌؕ-ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍؕ-اِذَاۤ اَخْرَ جَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَاؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠(۴۰) (پ۱۸،النور:۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان :جیسے اندھیریاں کسی کُنڈے کے دریا میں اس کے اوپر موج مو ج کے اوپر اور موج اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی دیتا معلوم نہ ہو اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں ۔

اہْلِ بصیرت وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہدایت دینے کا ارادہ فرمایا تو ان کے سینوں کو اسلام اور ہدایت کےنور سے مُنَوَّر فرمادیا اوردھوکے میں مبتلا وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہدایت نہ دینے کا ارادہ فرمایا تو ان کے دلوں میں اس طرح تنگی اور گھٹن پیدا فرمادی(کہ ایمان کا ان کے دلوں میں داخل ہونا ایسا ناممکن ہوگیا)جیسےآسمان پر چڑھ جانا ۔ دھوکے میں مبتلا وہ ہے جسےاپنی ہدایت کے لئے بصارت عطا نہیں ہوئی ،لہٰذاوہ اندھارہااوراس حال میں اُس نے خواہش کو اپنا قائد اورشیطان کو اپناراہ نُما بنالیا ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۷۲) (پ۱۵،بنی اسرآئيل:۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان :اورجو اس زندگی میں اندھاہووہ آخرت میں اندھا ہے اور اوربھی زیادہ گمراہ ۔

برائیوں کی جَڑ:

جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ دھوکا تمام برائیوں کی جڑہے اوراسی سےہلاکت میں ڈالنے والے تمام معاملات کی ابتدا ہوتی ہےتو ضروری ہے کہ دھوکے میں ڈالنے والے اور اس کی طرف لے جانے والے امور کے متعلق تفصیلی گفتگو کی جائے تاکہ راہ ِ حق کا خواہش مند ان امورکوپہچان کر ان سےدور رہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل و کرم جن بندوں پر ہوتا ہے وہی ان آفت زدہ اور خراب راستوں کی پہچان رکھتے اورٹھوکر کھانے سے محفوظ رہتےہیں،نیز وہ اپنے معاملات میں محتاط اوردوراندیش بھی ہوتے ہیں ۔ اب دھوکےکے پیچیدہ راستوں کی نشان دہی اور ان پر چل کر گمراہی کے گہرے گڑھے میں گرنے والوں مثلاً:قاضی،عُلَمااورنیک راہ پرگامزن لوگوں کے بارے میں وضاحت کی جائے گی کہ کس طرح یہ لوگ بنیادی باتوں سے غافل رہ کر اپنے ظاہر کو اچھا اور باطن کو برا کرلیتے ہیں اور ہم اس بات کی طرف بھی اشارہ کریں گےکہ یہ لوگ کیوں دھوکے

میں پڑے ہوئے ہیں اورکن وجوہات کی بناپر غفلت کا شکار ہیں؟ اگرچہ اس کی وجوہا ت بے شمار ہیں مگر یہ ممکن ہے کہ کچھ مثالوں کے ذریعے اس کی آگاہی ہوجائے سب کے بیان کی حاجت نہ رہے ۔

دھوکے میں مبتلا افراد:

دھوکے میں مبتلاافراد کی تعداد اگرچہ بہت زیادہ ہے لیکن ان سب کا شمار چار قِسْموں میں ہوتا ہے: (۱)…عُلَما(۲)…عابِدین(۳)… صوفیااور(۴)…مال دار ۔

مذکورہ افراد کی آگے مزید کئی اقسام بنتی ہیں اوران کےدھوکے میں پڑنے کی وجوہات بھی الگ الگ ہیں ۔ ان میں سے بعض لوگ برائی کو نیکی خیال کرتے ہیں ۔ مثلاً:حرام مال سے مساجد کی تعمیروآرائش کراتےہیں اور بعض لوگ تواس میں فرق نہیں کرپاتے کہ کون سا کام انہوں نے اپنی ذات کے لئے کیاہے اور کون سا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر جیسے وَعْظ و نصیحت کرنے والاجس کی غرض عوام میں مقبولیت اور شہرت حاصل کرنا ہواور ان میں بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو ضروری کام کو چھوڑ کر غیر ضروری کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں اورکچھ لوگ تو فرائض کو چھوڑ کر نَفْل کاموں میں مشغول ہوجاتےہیں اور بعض وہ ہیں جو مغز کو چھوڑ کر چِھلکے کواختیار کرتے ہیں ۔ مثلاً:وہ جو نماز پڑھتے ہوئے صرف درست مخارج کی ادائیگی کی جانب ہی توجہ کرتےہیں(1 ) ۔ ان کے علاوہ بھی دھوکے میں مبتلا ہونے کے اسباب وذرائع ہیں جن کی پہچان

[1] سیِّدِی اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور ، جلد3 ، صفحہ253پر فرماتے ہیں : ’’اتنی تجوید(سیکھنا) کہ ہرحرف دوسرے سے ممتاز ہوفرض عین ہے۔بغیر اس کے نماز قطعاً (بالکل)باطل ہے۔‘‘نیزدعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب بہارشریعت ، جلداول ، حصہ سوم ، صفحہ 511پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی عالمگیری کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ’’قراءت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے اداکیے جائیں ، کہ ہرحرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہوجائے۔‘‘ اور صفحہ570پردرمختاروردالمحتارکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتےاس پر واجب ہے کہ تَصْحِیْحِ حُرُ وْف میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگرصحیح خواں(درست پڑھنے والے)کی اقتدا کرسکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح اداکرسکتا ہواور یہ دونوں صورتیں ناممکن ہوں تو زمانۂ کوشش میں اس کی اپنی نماز ہوجائے گی۔

اسی طرح ممکن ہے کہ دھوکےمیں مبتلا افراد کی تفصیل بیان کی جائے اور مثالوں سے وضاحت کردی جائے ۔

سب سے پہلے ہم علما کا دھوکے میں مبتلا ہونا ذکر کریں گے لیکن اس سے پہلے دھوکا کی مذمت،اس کی حقیقت اور تعریف ذکر کریں گے ۔

باب نمبر1: دھوکے کی مَذَمَّت وحقیقت اور اس کی مِثالیں

پہلی فصل: دھوکے کی مَذَمَّت

دھوکے کی مذمت میں دو فرامین باری تعالٰی:

(1)…فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳) (پ۲۱،لقمٰن:۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان :تو ہرگزتمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے حِلم پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی ۔

(2)… وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ (پ۲۷،الحديد:۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان :مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی بُرائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمہیں فریب دیا ۔

دھوکےکی مذمت میں دوفرامین مصطفٰے:

(1)…عقل مندوں(یعنی علم والوں)کے کھانے پینےاورسونے کی بھی کیابات ہے،انہیں جاہلوں کی شب بیداری اور عبادت میں محنت ومَشَقَّت کیسےدھوکا دے سکتی ہے؟صاحبِ تقوٰی اور یقین رکھنے والے کا ذرہ برابر عمل دھوکے میں مبتلا لوگوں کے زمین بھرکے عمل سے افضل ہے ۔ (1 )

(2)…عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو فرمانبردار بنائےاور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور

[1] الزھد للامام احمد بن حنبل ، زھد ابی الدرداء ، ص۱۶۲ ، حدیث : ۷۳۸

بے وقوف وہ ہےجو خواہِشِ نفس کی پیروی کرے پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےامید رکھے ۔ (1 ) (2 )

دھوکے اور جہالت میں فرق:

علم کی فضیلت اور جہالت کی مذمت میں جتنی رِوایات مروی ہیں وہ سب دھوکا کی مذمت کی طرف نشان دہی کرتی ہیں کیونکہ دھوکا جہالت کی ایک قسم ہےجہالت کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کسی چیز کو اس کی حقیقت کے بَرخلاف جانےاوردھوکے کا شکار ہونا بھی جہالت ہےلیکن ہر جہالت دھوکا نہیں کیونکہ دھوکا میں دو چیزیں پائی جاتی ہیں:(۱)…مغرور فیہ( یعنی جس چیز کے بارے میں دھوکا ہوا ) ۔ (۲)…مغرور بہ (یعنی جس چیز کے ذریعہ دھوکا کا شکار ہوا) ۔ جب کوئی جاہل شخص اپنی خواہش کےمطابق کسی بات کا یقین کرتا ہے اور کوئی نہ کوئی ایسی شک وشبہ والی وجہ پائی جارہی ہوتی ہےجس کی وجہ سے جہالت ہورہی ہوتی ہے اور وہ اسی شک وشبہ والی وجہ کواپنے یقین کی دلیل سمجھ رہا ہوتاہےحالانکہ وہ دلیل نہیں ہوتی تو اس اعتبار سے حاصل ہونی والی جہالت کو دھوکا کہا جاتا ہے ۔

دھوکے کی تعریف :

نفس کا اس بات پر ٹھہرجانا جو خواہِشِ نفس کے مطابق ہواورشیطانی شبہے اور فریب کے باعث طبیعت اس کی طرف مائل ہودھوکا کہلاتا ہے،لہٰذا جو شخص کسی غَلَط شُبَہ کے باعث یہ خیال کرے کہ وہ فی الحال بھلائی کےراستے پر ہے یا مستقبل میں بھلائی کے راستےپرچل پڑے گا وہ دھوکے میں ہے ۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ

[1] سنن الترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب۲۵ ، ۴ / ۲۰۷ ، حدیث : ۲۴۶۷

[2] مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مراٰۃ المناجیح ، جلد7 ، ص103پر اس کے تحت فرماتے ہیں : یعنی وہ بے وقوف ہے جو کام کرے دوزخ کے اور امید کرے جنت کی ، کہا کرے اللہ غفور و رحیم ہے باجرہ بوئے اور امیدکرے گیہوں کاٹنے کی ، کہا کرے کہ اللہ غفور رحیم ہے کاٹتے وقت اسے گندم بنادے گا اس کا نام امید نہیں۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ(۶) (پ۳۰ ، الانفطار : ۶ ، ترجمۂ کنزالایمان : اے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے)اورفرماتاہے : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِؕ- (پ۲ ، البقرة : ۲۱۸ ، ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑےوہ رحمَتِ الٰہی کے امیدوار ہیں)جَو بو کر گندم کاٹنے کی آس لگانا شیطانی دھوکا اور نفسانی وسوسہ ہے۔خَو اجہ حسن بصری ( عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی )فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کو جھوٹی امید نے سیدھے راہ نیک اعمال سے ہٹا دیا ہے جیسے جھوٹی بات گناہ ہے ایسے ہی جھوٹی آس بھی گناہ ہے۔

وہ اپنے آپ کو بھلائی پرسمجھتے ہیں حالانکہ وہ غَلَطی پر ہوتےہیں،اسی طرح اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں اگرچہ ان کے دھوکے کی اقسام اور درجات مختلف ہیں،یہاں تک کہ ان میں سے بعض کا دھوکا بہت زیادہ واضح اور نمایاں ہے ،سب سے زیادہ دھوکے کاشکار کُفّار ہیں،پھر گناہ گار مسلمان ۔ چنانچہ ہم کفاراورگناہ گار مسلمانوں کےمتعلق ان مثالوں کو بیان کریں گے جن سے ان کے دھوکےمیں مبتلا ہونے کی حقیقت واضح ہوگی ۔

٤٠ من ٦٩١
النص العربي
كتاب ذم الغرور وهو الكتاب العاشر من ربع المهلكات من كتاب إحياء علوم الدين

النص منOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472أُخذ في 2026-10-21

هذا هو نص كتاب «إحياء علوم الدين» للغزالي بالعربية كما ورد في مدوّنة OpenITI، عن نسخة المكتبة الشاملة من طبعة دار المعرفة. لم يقابله أحد بالكتاب المطبوع ولا بمخطوط، ولم يراجعه أي عالم. وتذكر المدوّنة أن جزءًا من النص ناقص في بعض الصفحات وأن حواشي المحقق مختلطة بالنص؛ وكلاهما معروض كما هو. وقد وُضعت علامة عند نهاية كل صفحة من الطبعة المطبوعة. أما الترجمات فهي لمترجميها، أُخذت كلٌّ منها من النسخة المسمّاة معها وتُعرض نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوينها هي: لا تُقابَل أيٌّ منها سطرًا بسطر مع العربية، والإنجليزية لكريم مختصرة كما يقول مترجمها، وكلٌّ منها تحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تترجم «سبيل» شيئًا، ولم تقابل أي ترجمة بالعربية، ولم يراجع أيَّ ترجمةٍ عالمٌ.