جاہ و مَنْصَب اور رِیاکاری کی مَذَمَّت کابیان
هذه الترجمة لمترجمها لا لـ«سبيل». تُعرض كما يقدّمها مصدرها، نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوين المترجم نفسه: فهي لا تقابل العربية سطرًا بسطر، وتحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تقابلها «سبيل» بالعربية، ولم يراجعها أي عالم.
ترجمة: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںأُخذت من dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)أُخذ في 2026-10-22
ما يقوله المصدر عنها: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
مُقَدَّمَہ:
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جو غیبوں کو خوب جاننے والا،دل کے بھیدوں کا عِلْم رکھنے والا،کبیرہ گناہوں سے درگُزرفرمانے والا، دل کے پردوں میں چھپےعیبوں،پوشیدہ نیتوں اور دل کے رازوں کی خبر رکھنے والاہے، وہ ان ہی اعمال کو قبول کرتاہے جوکامل ہونے کے ساتھ ساتھ شرک و ریاکاری کی گندگی سے بھی پاک وصاف ہوں، وہ بادشاہت میں یکتا ہے اور وہی ہے جوشرک سے بے نیاز ہے،خوب دورد وسلام ہو حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پراور آپ کے آل واَصحاب پر جو خِیانت اور جھوٹ سے پاک ہیں ۔
ہمارے غمخوار آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’مجھے اپنی امت پرسب سے زیادہ خوف ریاکاری کے ساتھ ملی ہوئی مخفی شہوت کا ہے جو اندھیری رات میں صاف چٹان پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشِیدہ ہے ۔ ‘‘(1 )عام عبادت گزار اورمُتَّقِی لوگ توایک طرف،ریاکاری کی آفات پر بڑے بڑے ماہرعُلَما بھی آگاہی حاصل نہ کرسکے ۔ ریاکاری نفس کے انتہائی مُہْلِک اُمور اور باطنی مکروفریب میں سے ہے، اس میں علما، عبادت گزار اورسَفَرِآخرت کی منزل پرگامزن پکے ارادوں والے بھی مبتلا ہوجاتے ہیں، بعض اوقات وہ مجاہَدات کے ذریعے اپنے نفس پر سختی کر کے اسے خواہشات سے روکتے اور شُبہات سے بچاتے ہیں نیز مختلف عبادات پر اسے زبردستی ابھارتے ہیں ۔ یوں ان کے نفس ظاہری اعضا سے متعلق گناہوں سے تو عاجز ہو جاتے ہیں لیکن نیکی اور علم وعمل کے اظہار کے ذریعے راحت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ اس مقام پر وہ مجاہَدات کی مَشَقَّت سے چھٹکارا پا کر مخلوق کے ہاں مقبولیت اور ان کی طرف سے اپنی تعظیم و تو قیر کی لذت حاصل کرتے ہیں ۔ اس صورت میں ان کا نَفْس اعمالِ صالحہ کی طرف رغبت کرتاہے اور مخلوق میں ان کے چرچے کا مُتَمَنِّی رہتاہے، چنانچہ وہ صرف خالق کے مطلع ہونے پر قناعت نہیں کرتابلکہ لوگوں کے تعریف کرنے پر خوش ہوتا ہے اور اللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْک کی طرف سے حاصل
[1] سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الریاء والسمعة ، ۴ / ۴۷۱ ، حدیث : ۴۲۰۵کنزالعمال ، کتاب الاخلاق الباب الثانی ، فی الاخلاق و الافعال المذموة ، ۳ / ۱۹۱ ، حدیث : ۷۵۰۱
ہونے والی تعریف پراکتفانہیں کرتا ۔ اس کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ وہ خواہشات کو چھوڑتا، شکوک وشبہات سے بچتا اور عبادات میں مَشَقَّت برداشت کرتا ہے تو وہ اس کی تعریف میں خوب رَطبُ اللِّسان ہوں گے، اس کی مَدْح سرائی میں مُبالَغہ کریں گے، اسے عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھیں گے، اس کی ملاقات اور زیارت کو باعِثِ بَرَکَت سمجھیں گے ،اس سے حصولِ بَرکَت اور اس کی دعامیں رغبت رکھیں گے ،اس کی رائے پر چلنے کی طَمَع کریں گے، اس کی خدمت کرنے میں سَبْقَت اور سلام میں پہل کریں گے، محافل میں اسے بہت زیادہ عزت دیں گے، خرید و فروخت اور معا ملات میں اس سےنرمی برتیں گے، مجالس میں اسے مُقَدَّم کریں گے ،کھانے پینے اور لباس میں اسے فوقیت دیں گے، اس کے سامنے عاجِزی واِنکساری کرتے ہوئےخودکوچھوٹا ظاہر کریں گےاور اس کے کاموں میں اس کی عزت کرتے ہوئےپیش پیش رہیں گے ۔ نفس کو اس سے اتنی لذت حاصل ہوتی ہے جو تمام لذتوں اور خواہشات پر غالب آجاتی ہےیوں نفس گناہوں کے ترک کرنے کوگِراں نہیں سمجھتااور عبادات پر اِستقامت کی سختی کو آسان تصورکرتاہے کیونکہ وہ باطن میں سب سے بڑی لذت وخواہش کی چاشنی کو محسوس کر لیتاہے ۔
پس وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی زندگی رضائے الٰہی اور عبادتِ الٰہی میں بسر ہو رہی ہے حالانکہ اس کی زندگی ایسی پوشیدہ خواہش کے تحت بسر ہورہی ہوتی ہے جس کے ادراک سے انتہائی مضبوط عقلیں بھی قاصر ہیں مگر وہ خود کو اللہ عَزَّ وَجَلّ کی اطاعت میں مخلص اور اس کے مَحارِم( اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء)سے باز رہنے والا خیال کر رہا ہوتا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے نفس نےلوگوں کے سامنے زینت ودکھلاوے اور عزت ووقارکے ذریعے ملنے والی عارضی خوشی کی خاطر اپنے اندرپوشیدہ خواہش کو چھپا رکھا ہے ۔ یوں اس کی عبادات اور اعمالِ صالحہ کا اجرو ثواب ضائع ہو جاتا ہے، اس کا نام مُنافقِیْن کی فِہْرِسْت میں لکھ دیا جاتا ہےحالانکہ وہ خود کو اللہ عَزَّ وَجَلّ کےمُقَرَّب بندوں میں شمار کر کررہاہوتاہے ۔ یہ نفس کا ایسامکروفریب ہے جس سے صِدِّیْقِیْن ہی بچ سکتے ہیں اور ایسا گڑھا ہے جس سے مُقَرَّبِیْن کے علاوہ کوئی نہیں نکل سکتا ۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ’’صدیقین سے سب سے آخر میں دور ہونے والی چیز جاہ ومنصب کی محبت ہے ۔ ‘‘جب یہ معلوم ہو چکا کہ ریاکاری ایک باطنی مَرَض اورشَیاطین کا مضبوط جال ہے تو اس کا سبب، اس کی حقیقت ، درجات واقسام،طریقۂ علاج اور اس سے
پرہیز کی وضاحت ضروری ہے ۔ اس اعتبار سے اس بیان کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے:
*…پہلی قسم:جاہ ومنصب اور شہرت کی چاہت اس میں درج ذیل امور کا بیان ہوگا:(۱)…شہرت کی مذمت (۲)… گمنامی کی فضیلت (۳)… حُبِّ جاہکی مذمت (۴)… جاہ ومَنْصَب کا معنی اور اس کی حقیقت (۵)… مال کی محبت سے زیادہ جاہ ومنصب کے محبوب ہونے کا سبب (۶)…جاہ ومنصب وہمی کمال ہے حقیقی کمال نہیں (۷)…حب جاہ کی محبوب ومذموم صورتوں کا بیان (۸)… تعریف وتوصیف کے پسند اور مذمت کے ناپسند ہونے کا سبب (۹)…حب جاہ کا علاج (۱۰)…تعریف کی چاہت کا علاج (۱۱)… مذمت کی کراہت کا علاج (۱۲)…مدح وذم میں لوگوں کے مختلف احوال ۔ یہ کل12فصلیں ہیں جن سے ریا کاری کے معانی پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا ان کا پہلےبیان کرنا ضروری ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلّ اپنے لُطف و کرم اور احسان سےدرستی کی توفیق دینے والاہے ۔
باب نمبر1: حُبّ جاہ اور شُہرت کا بیان
(اس میں 12فصلیں ہیں)
پہلی فصل: حُبّ جاہ اور شُہرت کی مذمت کا بیان
اللہعَزَّ وَجَلَّ تجھے بھلائی عطاکرے خوب سمجھ لے!جاہ ومنصب کا مطلب شُہرت اورناموری ہےاوریہ قابل مذمت ہے،قابلِ تعریف صرف گمنامی ہے، ہاں!یہ ایک الگ بات ہے کہ بغیر شُہرت ونامْوَری کی مَشَقَّت اٹھائےمَحْض دین پھیلانے کے سبَب اللہ عَزَّ وَجَلّ کسی کو مشہور کردےتو یہ شُہْرت ونامْوَری قابلِ مذمَّت نہیں ۔
شُہرت کی مذمت میں دوفرامین مصطفٰے:
(1)…کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ لوگ اس کے دین یا دنیا کے حوالے سے اس کی طرف انگلی اٹھائیں مگر جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ محفوظ رکھے ۔ (1 ) (2 )
(2)… کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ لوگ اس کے دین یا دنیا کے حوالے سے اس کی طرف
[1] شعب الایمان ، باب فی اخلاص العمل للّٰہ ، ۵ / ۳۶۶ ، حدیث : ۶۹۷۷
[2] مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مراٰۃ المناجیح ، جلد7 ، صفحہ136پر اس کے تحت فرماتے ہیں : دنیوی کمالات دولت ، صحت ، طاقت میں یوں ہی دینی کمالات علم ، عبادت ، ریاضت میں مشہور ہونا عوام کے لئے خطرناک ہی ہے کہ اس سے عموماًدل میں غرور وتکبر پیدا ہوجاتے ہیں۔ہاں بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ شہرت سے متکبر نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ نیک نامی اور بدنامی اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ )کے قبضہ میں اورلوگوں کا کوئی اعتبار نہیں انہیں زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے دیرنہیں لگتی۔
انگلیوں سے اشارہ کریں مگرجسے اللہ عَزَّ وَجَلّ اس برائی سے محفوظ فرمائے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اوراعمال کو دیکھتاہے ۔ (1 )
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے جب یہ حدیث روایت کی تو آپ سے کہا گیا:اے ابوسعید! جب لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کی طرف بھی تو انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:’’اس سے وہ اشارہ مراد نہیں جو تم سمجھے بلکہ اس سے مراد اس شخص کی طرف اشارہ کرنا ہے جو دین میں بدعتی اور دنیا کے معاملے میں فاسق ہو ۔ ‘‘
شُہرت کے متعلق 17اَقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:خرچ کرو،تشہیر نہ کرو اورخودکو اس لئے بلند نہ کرو کہ تمہیں پہچانا جائے اور تمہارا نام ہو بلکہ چُھپے رہواور خاموشی اختیار کرو سلامت رہو گے،اس طرح تم سے نیک لوگ خوش اور بدکار ناراض ہوں گے ۔
(2)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم نے فرمایا:جس نے شہرت کوپسند کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلّ کی تصدیق نہیں کی ۔
(3)…حضرت سیِّدُناایوبسَخْتِیا نی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: اللہعَزَّ وَجَلَّ کی قسم! بندہ اس وقت تک اللہ عَزَّ وَجَلّ کی تصدیق میں سچا نہیں جب تک اسے یہ پسند نہ ہو کہ اس کی اپنی کوئی پہچان نہ ہو ۔
(4)…حضرت سیِّدُناخالد بن مَعدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے گرد جب لوگ زیادہ ہو جاتے تو آپ شہرت کےڈرسے اٹھ کر چلے جاتے ۔
(5)…حضرت سیِّدُناابُوالْعالِیہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق منقول ہے کہ جب آپ کے پاس تین سے
زیادہ افراد بیٹھ جاتے تو آپ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے ۔
(6)…حضرت سیِّدُناطلحہ بن عبد اللہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے گرد تقریباً10افرادکوجمع دیکھا تو فرمایا: لالچ کی مکھیاں اور جَہَنَّم کے پروانے ہیں ۔
[1] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب التواضع والخمول ، ۳ / ۵۴۶ ، حدیث : ۳۱
(7)…حضرت سیِّدُناسُلیم بن حَنْظَلَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ ہم حضرت سیِّدُنااُبَیْ بن کَعْب رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ اچانک امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کو دیکھ کر اپنا کو ڑا بلند کیاتوحضرت سیِّدُنااُبَیْ بن کَعْب رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:اے امیرالمؤمنین!ذراٹھہریئے!یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟امیرالمؤمنین رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: تمہارا یہ طریقہ آگے چلنے والے کے لئے آزمائش اور پیچھے چلنے والوں کے لئے ذِلَّت ہے ۔
(8)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے چل دیئے ۔ آپ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: تم میرے پیچھے کیوں چلتے ہو؟ اللہعَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگرتم ان باتوں کو جان لو جس کی وجہ سے میں اپنا دروازہ بند رکھتا ہوں تو تم میں سے دو آدمی بھی میرے پیچھے نہ چلیں ۔
(9)…حضرت سیِّدُناحسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اگر بیوقوفوں کے پیچھے چلنے والے زیادہ ہوجائیں تو ان کے دل کم ہی ثابِت قَدَم رہ پاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ آپ باہر تشریف لائے تو ایک جماعت آپ کے پیچھے چلنے لگی آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟ ورنہ تمہارا یہ عمل مؤمن کےدل میں کچھ باقی نہ چھوڑے گا ۔
(10)…منقول ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مُحَیْرِیْز رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ شریْکِ سَفَرہوا جب ان سے جدا ہونے لگا تو عرض کی: حضور کوئی نصیحت فرمائیے!حضرت سیِّدُناابنِ مُحَیْرِیْز رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا: اگرتم سے ہو سکے تو یہ تین کام کرنا:(۱)…تم دوسروں کو پہچانو لیکن تمہاری کوئی پہچان نہ ہو(۲)…تم چلو لیکن تمہارےپیچھےکوئی نہ چلےاور(۳)… تم سوال کرولیکن تم سےکوئی سوال نہ کرے ۔
(11)…حضرت سیِّدُنا ایوبسَخْتِیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ایک سَفَر پر روانہ ہوئے تو بہت سے لوگ بھی آپ
کے ساتھ ہولئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلّ جانتا ہے کہ میں دل میں اس بات کو ناپسند کرتاہوں تو مجھے ضرور غَضَبِ الٰہی کا خوف تھا ۔
(12)…حضرت سیِّدُنامَعْمَر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نےحضرت سیِّدُنا ایوبسَخْتِیانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ان کی قمیص کے لمبا ہونے پر ملامت کیا تو انہوں نے فرمایا: پہلے زمانے میں قمیص کا لمبا ہونا شہرت کا باعث تھا اورآج قمیص کا چھوٹا ہونا باعث شہرت ہے ۔
(13)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا ابوقِلابہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا جس نے بہت سارے کپڑے زیْبِ تن کئے ہوئے تھے اسے دیکھ کر حضرت سیِّدُنا ابوقلابہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :’’اس رینکنے والے گدھے سے بچو ۔ ‘‘اس سے آپ کا اشارہ طلب شہرت کی طرف تھا ۔
(14)…حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:بزرگانِ دین شُہرت کو ناپسند فرماتے تھے چاہے وہ عمدہ لباس کے ذریعے ہو یا ہلکےلباس کے ذریعے کیونکہ نگاہیں تو دونوں کی طرف اٹھتی ہیں ۔
(15)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُنابِشْرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی کی خدمت میں عرض کی : حضور مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ۔ فرمایا: اپنے ذِکر کو چُھپائے رکھو اور حلال کھانا کھاؤ ۔
(16)…حضرت سیِّدُناحَوشَب بن عقیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روتے ہوئے فرمایا:(ہائے افسوس!) میرا نام جامع مسجد تک پہنچ گیا ۔
النص منOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472أُخذ في 2026-10-21
هذا هو نص كتاب «إحياء علوم الدين» للغزالي بالعربية كما ورد في مدوّنة OpenITI، عن نسخة المكتبة الشاملة من طبعة دار المعرفة. لم يقابله أحد بالكتاب المطبوع ولا بمخطوط، ولم يراجعه أي عالم. وتذكر المدوّنة أن جزءًا من النص ناقص في بعض الصفحات وأن حواشي المحقق مختلطة بالنص؛ وكلاهما معروض كما هو. وقد وُضعت علامة عند نهاية كل صفحة من الطبعة المطبوعة. أما الترجمات فهي لمترجميها، أُخذت كلٌّ منها من النسخة المسمّاة معها وتُعرض نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوينها هي: لا تُقابَل أيٌّ منها سطرًا بسطر مع العربية، والإنجليزية لكريم مختصرة كما يقول مترجمها، وكلٌّ منها تحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تترجم «سبيل» شيئًا، ولم تقابل أي ترجمة بالعربية، ولم يراجع أيَّ ترجمةٍ عالمٌ.