عجائِباتِ قَلْب کا بیان
هذه الترجمة لمترجمها لا لـ«سبيل». تُعرض كما يقدّمها مصدرها، نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوين المترجم نفسه: فهي لا تقابل العربية سطرًا بسطر، وتحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تقابلها «سبيل» بالعربية، ولم يراجعها أي عالم.
ترجمة: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںأُخذت من dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)أُخذ في 2026-10-22
ما يقوله المصدر عنها: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اس پاک پَرْوَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس کی جلالَتِ شان کے اِحاطہ کے معاملہ میں قُلُوب واَذْہان حیرت کاشکار ہیں، جس کے انوار کی ابتدائی تجلی سے آنکھیں دہشت زدہ ہیں، جو تمام رازوں سے آگاہ ہے، دلوں میں چھپی باتیں جانتا ہے، اپنی سلطنت کا نظام قائم کرنے میں کسی کا محتاج نہیں،وہی دلوں کو پھیرنے والا ہے، گنا ہ معاف فرمانے والا ہے، عُیُوب کی پردہ پوشی فرمانے والا اور غموں سے نجات دینے والا ہے، کامل درود اور ڈھیروں سلام ہوں رسولوں کے سردار، بھٹکے ہوئے لوگوں کو دین حق پر جمع کرنے والے اور بے دینوں کا خاتمہ فرمانے والےرسول حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے،احمدِمجتبیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کی پاکیزہ آل پر ۔
انسان کو تمام مخلوق پر شرافت و فضیلت اس وجہ سے حاصل ہے کہ اُسے معرِفَتِ الٰہی حاصل کرنے پر قدرت عطا کی گئی ہے، اسی کے سبب اسے دنیا میں جمال، کمال اور فخر حاصل ہے اور یہی اس کی آخرت کا سرمایہ ہے، معرِفتِ الٰہی کے حُصول کا ذریعہ انسان کا دل ہے، یہی دل اللہعَزَّ وَجَلَّ کو جانتا، اس كا قُرب حاصل کرتا، اس کے لئےعمل کرتا اور اس کی طرف رسا ئی پاتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ اپنے انوار وتجلیات کی بارش اسی پر فرماتا ہے، اعضاء اس کے تا بع، خادم اورآلات ہیں جن سے یہ خدمت لیتا اور انہیں استعمال کرتا ہے جیسے مالک اپنے غلام، حاکم اپنی رعایا اور صنعتکار اپنے اوزار کو استعما ل کرتاہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کی بارگاہ میں دل اس وقت مقبول ہوتا ہے جب وہ اس کے سوا ہرشے کو چھوڑ دے اور جب غیرُ اللہ میں مشغول ہو تو بارگاہِ الٰہی سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ احکامات، خطاب اور عِتاب کا معاملہ اسی دل سے ہوتا ہے ۔ دل صاف ہو تو قُرب الٰہی کی سعادت سے سرفراز ہوتا ہے اور اگر صاف نہ ہو تو بدبختی ومحرومی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کا حقیقی فرمانبردار دل ہے، اعضاء سے ظاہر ہونے والی عبادات اسی کے انوار ہیں ۔ رب عَزَّ وَجَلَّ کا نافرمان اور اس کی حکم عَدُولی کرنے والا بھی یہی دل ہوتا ہے، اعضاء سے ظاہر ہونے والی برائیاں تو بس علامات ہوتی ہیں، اسی کی روشنی اور تاریکی کے سبب اچھا یا برا عمل ظاہر ہوتا ہے کہ برتن سے وہی چیز چھلکتی ہے جو اس میں ہوتی ہے ۔ پس جسے اپنے دل کی پہچان حاصل ہوجائے وہ خود کو پہچان لیتا ہے اور جو خود کو پہچان لے اسے رب عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے اورجسے دل کی پہچان حاصل نہ ہو وہ خود کو نہیں پہچان سکتا اور جوخود کو نہ پہچان سکے وہ رب عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت سے بھی غافل رہتاہے کیونکہ جو
اپنے دل کو نہ پہچان سکا وہ کسی اورکو کیا پہچانے گا؟ اکثر لوگ اپنے دلوں اور اپنے آپ سے غافل ہیں کیونکہ ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان ایک رکاوٹ قائم کردی گئی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلّ کاحکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے(1)جس کے سبب اسے اللہ عَزَّ وَجَلّ کے مشاہدے، مراقبے اور اس کی صفات کی معرفت سے روک دیا جاتا ہے اور دل جو کہ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کی دو انگلیوں کے درمیان (یعنی تحت قدرت) ہے، بدلتا رہتا ہے،یہ کیفیت انسان پر پوشیدہ کردی جاتی ہے ۔ انسان کا دل بدلنے سے مراد یہ ہے کہ کبھی تو خواہشات کی پیروی میں اس قدر دور نکل جاتا ہے کہ شیطانی گروہ میں شامل ہوجاتا ہے اور کبھی نیک اعمال میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ملائکہ مُقَرَّبِیْن کی دنیا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے ۔
جو اپنی اندرونی وبیرونی صلاحیتوں سے غافل ہوکر دل کو نہیں پہچانتا وہ اُن لوگوں میں سے ہےجن کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۹) (پ۲۸،الحشر:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔
معلو م ہو ا کہ دل اور اس کے اوصاف کی حقیقی معر فت ہی دین اور سالکین کے راستے کی اصل بنیاد ہے ۔
(حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں:) کتاب کا نصفِ اوّل مکمل ہوا جس کا تعلق جسمانی عادات وعبادات اورظاہری علم سے ہے ۔ اب ہم اپنے وعدے کے مطابق نصفِ ثانی میں مُہْلِکات(یعنی دل کو ہلاکت میں ڈالنے والی) اور مُنْجِیات(یعنی نجات دلانے والی) صفات کا تذکرہ کریں گے جن کا تعلق باطنی علم سے ہے ۔ ان صفات کی ابتدا سے قبل دل کے متعلق چند باتوں کا ذکر کرنا ضروی ہے جنہیں ہم نے دو بیانوں میں تقسیم کیا ہے:(1)…عجائباتِ قَلْب کا بیان(۲)…ریاضت ِنفس کا بیان ۔ اس کے بعد مُہْلِکات ومُنْجِیات کی تفصیل بیان کریں گے ۔
ابھی عجائباتِ قلب کی تفصیل کی طرف چلتے ہیں اسے ہم مثالوں کے ذریعے بیان کریں گے کہ مثالوں کے ذریعے بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ قلبی عجائبات اور اس کے غیبی اسرار (مثالوں کے بغیر) اگرچہ صراحتًا بیان کئے جائیں پھر بھی اکثر لوگ انہیں سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔
[1] جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے۔(پ۹ ، الانفال : ۲۴)
باب نمبر1: نَفْس،رُوْح،قَلْب اورعَقْل کے معانی کابیان
جان لو! آنے والے ابواب میں ان چاروں لفظوں کا استعما ل ہوگا ۔ بہت کم نام ور علما ایسے ہیں جو ان لفظوں کے مختلف معانی، تعریفات اور ان کی مختلف مرادوں کا مکمل علم رکھتے ہیں اور زیادہ تر غلطیاں ان کے معانی اور ان کی مختلف مرادوں سے لاعلمی کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں ۔ ہم ان لفظوں کے فقط وہ معانی بیان کریں گے جو ہمارے مقصد سے متعلق ہیں ۔
قلب کے معانی:
قلب(یعنی دل)کے دو معانی ہیں:(۱)…قلب سینے کی با ئیں جا نب مخروطی شکل میں گوشت کا مخصوص ٹکڑا ہے جو سیاہ خون سے بھرا ہوا ہے ۔ قلب روح کا منبع ومرکز ہے ۔ ہمارا مقصود اس کی شکل و کیفیت کی وضاحت کرنا نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلُّق طبیبوں سے ہے اور اس میں کوئی دینی فائدہ بھی نہیں ۔ یہ دل تو جانور بلکہ مردہ میں بھی پایا جا تا ہے کیونکہ یہ محض گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں،لہٰذا یہ دل ہمارا موضوع نہیں کہ اس کا تعلق تو ظا ہری دنیا سے ہے، اسی وجہ سے اسے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی ظاہری آنکھ سے دیکھ سکتا ہے ۔ (۲)…قلب کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ ایک روحانی، رَبّانی لطیفہ ہے جس کا جسمانی دل سے تعلق ہے، یہی لطیفہ رَبّانی انسان کی حقیقت ہے، یہی انسان کو جانتا اورپہچانتا ہے، خطاب، عذاب، عتاب اور احکامات کا تعلق اسی سے ہے ۔
اکثر لوگ اس روحانی لطیفہ اور جسمانی قلب کے تعلق کی وجہ سمجھنے میں حیرت کا شکار ہیں کیونکہ یہ تعلق ایسا ہے جیسے عرض کا تعلق جسم سے، صفت کا موصوف سے، کاریگر کا تعلق اپنے اوزار سے اور مکان کا تعلق رہنے والے سے ہوتا ہے ۔ اسے بالتفصیل ذکر نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں: ایک یہ کہ اس کا تعلق عُلُومِ مُکاشَفہ سے ہے جبکہ اس کتاب کا مقصد عُلُومِ مُعامَلَہ ذکر کرنا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کی حقیقت روح کے راز سے پردہ اٹھانے پر موقوف ہے حا لا نکہ اس با رے میں تو رسو لُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی کلام نہ فرمایا تو کوئی اور اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہے ۔ (1)
[1] بخاری ، کتاب العلم ، باب قول الله ومااوتيتم...الخ ، ۱ / ۶۶ ، حديث : ۱۲۵
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کتاب میں ہم جہاں لفظ ”قلب“ ذکر کریں گے ہماری مراد یہی ”روحانی ورَبّانی لطیفہ“ ہوگا ۔ نیزہمارا مقصد اس ربانی لطیفہ کےاحوال واوصاف بیان کرنا ہے نہ کہ اس کی ذاتی حقیقت کیونکہ عِلْمِ مُعامَلَہ اس کے احوال واوصاف کی معرفت کا محتاج ہے نہ کہ اس کی ذاتی حقیقت کا ۔
روح کے معانی:
روح کے بھی دو معنی ہیں:(۱)…روح ایک لطیف جسم ہے جس کا منبع ظاہر دل یعنی گوشت کے مخصوص ٹکڑے کا اندرونی حصہ ہے، جہاں سے یہ رگوں کے ذریعے تمام جسم میں سرایت کرتی ہے ۔ اس کا جسم میں جاری ہونا اور جسم کے تمام اعضاء کو زندگی اور قوت بخشنا ایسا ہے جیسے گھر کے کونے میں رکھا چراغ پورے گھر کو روشن کردیتا ہے، تمام اعضاء کو ملنے والی زندگی اس روشنی کی طرح ہے جو دیواروں پر پھیلی ہوئی ہے اور روح کی مثال چراغ کی سی ہے اور روح کا بدن میں سرایت وحرکت کرنا ایسا ہے جیسے کوئی چراغ کو گھر میں ایک جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ رکھ دے ۔
لفظ ”روح“ کا یہ معنی طبیب حضرات مراد لیتے ہیں اور یہی وہ ”لطیف حرارت“ ہے جو دل کی حرارت سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس معنیٰ کی وضاحت کرنا ہمارا مقصد نہیں کیونکہ اس کا تعلق تو ان طبیبوں سے ہے جو ظاہری بدن کا علاج کرتے ہیں جہاں تک دین کی اصلاح کرنے والے طبیبوں (یعنی علما) کا تعلق ہے تووہ دل کا علاج کرتے ہیں حتّٰی کہ دل اللہ عَزَّ وَجَلّ کا قرب پالیتا ہے، اگر روح سے وہی معنی مراد لیا جائے جو اَطِبّا لیتے ہیں تو علما کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔
(۲)…روح وہ رَبّانی لطیفہ ہے جو انسان کی حقیقت کا ادراک کرتا اور اسے پہچانتا ہے ۔ یہ وہی ربانی لطیفہ ہے جس کی وضاحت ہم نے قلب کا دوسرا معنی بیان کرتے ہوئے کی ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلّ کے فرمان:
’’ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ (1) ‘‘
سے یہی مراد ہے ۔ یہ ایسا امر الٰہی ہے جس کی حقیقت جاننے سے اکثر عُقَلا عاجز ہیں ۔
نفس کے معانی:
نفس کے بےشمار معانی ہیں لیکن ہمارا مقصود دو معنی ہیں:(۱)…نفس اسے کہتے ہیں جو انسان میں شہوت اور
[1] ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔(پ۱۵ ، بنی اسرآئيل : ۸۵)
غصے کو ابھارتا ہے ۔ اس کی وضاحت بعد میں کی جائے گی ۔ صوفیائے کرام اس لفظ کو اکثر استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک نفس سے مراد انسان میں مذموم صفات جمع کرنے والی قوت ہے ۔ اسی لئے صوفیا فرماتے ہیں کہ مجا ہدۂ نفس اور اس کی کاٹ ضروری ہے ۔ حُضُورنبیّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاس فرمان عالیشان سے اسی طرف اشارہ ملتا ہے کہ’’تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دو پہلوؤں میں ہے ۔ ‘‘(1)
(۲)…نفس وہی ربانی لطیفہ ہے جس کا تذکرہ ہم کر چکے ۔
نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ، نفس لَوَّامہ اور نفس اَمّارہ:
انسان کی حقیقت، اس کا نفس اور اس کی ذات یہی ربّانی لطیفہ ہے، مختلف حالتوں کے اعتبار سے اس کے اوصاف تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ خواہشات سے مقابلہ کرتے کرتے جب یہ احکام الٰہی کا پابند ہوجاتا اور اس کی بےقراری دور ہوجاتی ہے تو اسی ربّانی لطیفہ کو ”نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ“ کہا جاتا ہے ۔ اسی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ(۲۷)ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ(۲۸) (پ۳۰،الفجر:۲۸،۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان :اے اطمنان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔
پہلے معنیٰ(یعنی شہوت اور غصہ) کےاعتبار سے نفس کا اللہ عَزَّ وَجَلّ کی بارگاہ میں رجوع کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ معنی تو نفس کو اللہ عَزَّ وَجَلّ سے دور اور شیطانی گروہ میں شامل کرنے کا سبب ہے ۔
جب اس ربانی لطیفہ کی بے قراری مکمل دور نہ ہو (یعنی اسے خواہشات پر غلبہ حاصل نہ ہو) لیکن خواہشات کی مخالفت مسلسل کرتا رہے ان سے مقابلہ کرتا رہے تو اس وقت اسے ”نفس لَوَّامَہ“کہا جاتا ہے کیونکہ انسان جب عبادت الٰہی میں کوتاہی کرے تو یہ اسے ملامت کرتا ہے ۔ جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲) (پ۲۹،القيٰمة:۲)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے ۔
اگر یہ ملامت کرنا چھوڑ دے اور خواہشات کی پیروی اور شیطانی باتوں کی اتباع کرے تو اسے ”نفس اَمّارَہ“ کہاجاتا ہے ۔ اس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلّ حضرت سیِّدُنایُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کاقول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
[1] الزهدالکبير ، الجزء الثانی ، ص۱۵۷ ، حديث : ۳۴۳
وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْۚ-اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ (پ۱۳،يوسف:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے ۔
النص منOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472أُخذ في 2026-10-21
هذا هو نص كتاب «إحياء علوم الدين» للغزالي بالعربية كما ورد في مدوّنة OpenITI، عن نسخة المكتبة الشاملة من طبعة دار المعرفة. لم يقابله أحد بالكتاب المطبوع ولا بمخطوط، ولم يراجعه أي عالم. وتذكر المدوّنة أن جزءًا من النص ناقص في بعض الصفحات وأن حواشي المحقق مختلطة بالنص؛ وكلاهما معروض كما هو. وقد وُضعت علامة عند نهاية كل صفحة من الطبعة المطبوعة. أما الترجمات فهي لمترجميها، أُخذت كلٌّ منها من النسخة المسمّاة معها وتُعرض نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوينها هي: لا تُقابَل أيٌّ منها سطرًا بسطر مع العربية، والإنجليزية لكريم مختصرة كما يقول مترجمها، وكلٌّ منها تحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تترجم «سبيل» شيئًا، ولم تقابل أي ترجمة بالعربية، ولم يراجع أيَّ ترجمةٍ عالمٌ.