انتقل إلى المحتوى
الكتاب ١ · إحياء علوم الدين
الكتاب ١ · اردو

عِلْم کا بیان

هذه الترجمة لمترجمها لا لـ«سبيل». تُعرض كما يقدّمها مصدرها، نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوين المترجم نفسه: فهي لا تقابل العربية سطرًا بسطر، وتحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تقابلها «سبيل» بالعربية، ولم يراجعها أي عالم.

ترجمة: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںأُخذت من dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)أُخذ في 2026-10-22

ما يقوله المصدر عنها: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

یہ سات ابواب پر مشتمل ہے: (۱)علم ، تعلیم اور تعلُّم کی فضیلت (۲)فرضِ عین اور فرضِ کفایہ علوم ، علمِ فقہ اور علمِ کلام کے علمِ دین ہونے کی حد اور علمِ آخرت وعلمِ دنیاکا بیان (۳)ان مذموم(قبیح) علوم کا بیان جنہیں عوام علم دین سمجھتے ہیں نیزاس بات کابیان کہ کون ساعلم کتنامذموم ہے (۴)آفاتِ مناظرہ اور لوگوں کے اختلافات اور جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجوہات کا بیان (۵)استاذ وشاگردکے آداب(۶)علم اورعلماکی آفات اور علمائے دنیاوعلمائے آخرت کے درمیان فرق کرنے والی علامات کا بیان اور (۷)عقل ، اس کی فضیلت ، اس کی اقسام اور اس کے بارے میں وارِد رِوایات کا بیان ۔

باب نمبر1: عِلْم ، تعلیم اور تعلّم کی فضیلت اور اس کے عقلی ونقلی دلائل کا بیان

پہلی فصل: عِلْم کی فضیلت

علم کی فضیلت پر مشتمل 14فرامین بارِی تعالیٰ:

{۱}

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ- ( پ ۳ ، اٰل عمران :۱۸(

ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر ۔

دیکھئے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کس طرح اپنی پاک ذات سے آغاز فرمایا پھر ملائکہ اور پھر علم والوں کا ذکر فرمایا ۔ شرف وفضیلت اور عظمت وکمال کے لئے یہی کافی ہے ۔

{۲}

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- ( پ ۲۸ ، المجادلۃ :۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا ۔

علما کی عام لوگوں پر فضیلت: حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: ’’علمائے کرام عام مومنین سے700درَجے بلند ہوں گے ، ہر دو درَجوں کے درمیان 500سال کی مسافت ہے ۔ ‘‘ (1)

{۳}

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- ( پ ۲۳ ، الزمر :۹)

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ۔

{۴}

اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ- ( پ ۲۲ ، فاطر :۲۸

ترجمۂ کنزالایمان : اللّٰہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔

{۵}

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳) ( پ ۱۳ ، الرعد :۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ اللّٰہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کتاب کا علم ہے ۔

{۶}

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ ( پ ۱۹ ، النمل :۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان : اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا ۔

اس میں تنبیہ ہے کہ علم کی طاقت سے وہ اس پر قادر ہوا (یعنی حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت سیِّدُنا آصف بن برخیا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ علم کی طاقت سے پلک جھپکنے میں تخت لانے پرقادر ہوئے) ۔

{۷}

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ- ( پ ۲۰ ، القصص :۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان : اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری اللّٰہ کا ثواب بہتر ہے اس کیلئے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے ۔

اس آیت ِ مبارَکہ میں بیان فرمایا کہ آخرت کی قدر و منزلت علم کے ذریعے معلوم ہوتی ہے ۔

{۸}

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) ( پ ۲۰ ، العنکبوت :۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان :اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے ۔

{۹}

وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ ( پ ۵ ، النسآء :۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان : اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے توضرور اُن سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں کاوش کرتے ہیں ۔

واقعات کے فیصلے کو علمائے کرام کے اجتہاد کی طرف لوٹا کر حکمِ الٰہی کے اظہار میں ان کادرَجہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درَجے سے ملایا ۔

{۱۰}

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ- ( پ ۸ ، الاعراف :۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا ۔

ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں لِبَاسًا سے علم رِیْشًاؕ سے یقین اور وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙسے حیا مراد ہے ۔

٤٠ من ٢٢٣٧
النص العربي
كتاب العلم وفيه سبعة أبواب

النص منOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472أُخذ في 2026-10-21

هذا هو نص كتاب «إحياء علوم الدين» للغزالي بالعربية كما ورد في مدوّنة OpenITI، عن نسخة المكتبة الشاملة من طبعة دار المعرفة. لم يقابله أحد بالكتاب المطبوع ولا بمخطوط، ولم يراجعه أي عالم. وتذكر المدوّنة أن جزءًا من النص ناقص في بعض الصفحات وأن حواشي المحقق مختلطة بالنص؛ وكلاهما معروض كما هو. وقد وُضعت علامة عند نهاية كل صفحة من الطبعة المطبوعة. أما الترجمات فهي لمترجميها، أُخذت كلٌّ منها من النسخة المسمّاة معها وتُعرض نصًّا قائمًا بذاته تحت كل كتاب بعناوينها هي: لا تُقابَل أيٌّ منها سطرًا بسطر مع العربية، والإنجليزية لكريم مختصرة كما يقول مترجمها، وكلٌّ منها تحتفظ بأخطاء النسخة التي أُخذت منها. لم تترجم «سبيل» شيئًا، ولم تقابل أي ترجمة بالعربية، ولم يراجع أيَّ ترجمةٍ عالمٌ.